Thursday , November 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ۔12 فیصد تحفظات کی فراہمی پر سیاسی سبکدوشی کا چیلنج : جاناریڈی

۔12 فیصد تحفظات کی فراہمی پر سیاسی سبکدوشی کا چیلنج : جاناریڈی

10لاکھ ایکر اراضی کی سیرابی بھی نہیں ہوسکتی ‘ مسلمانوں کے بشمول ریاست کی عوام کو حکومت سبزباغ دکھا رہی ہے

نلگنڈہ۔ 10 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے اور دوسری فصل کو آبی سربراہی عمل میں لانے اور 10 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے وعدے کو مکمل کرنے پر سیاست سے سبکدوشی اختیار کرنے کاسابق ریاستی وزیر و سی ایل پی لیڈر کانگریس پارٹی مسٹر کے جانا ریڈی نے آج ضلع نلگنڈہ کے مریال گوڑہ میں پارٹی کے جائزہ اجلاس میں قائدین اور کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے حکومت کو چیالنج کیا ۔ اس اجلاس میں پردیش کانگریس صدر این اتم کمار ریڈی اپوزیشن قائدین قانون ساز کونسل محمد علی شبیر ‘ پارٹی ضلع مبصر ملوروی رکن اسمبلی و سابق ریاستی وزیر مسٹر کے وینکٹ ریڈی رکن قانون ساز کونسل مسٹر کے  راج گوپال ریڈی کے علاوہ دیگر پارٹی کارکن شریک تھے ۔سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی ناگر جنا ساگر مسٹر کے جانا ریڈی نے کہا کہ میری امیج کو متاثر کرنے کے لئے چیف منسٹر  مسٹر چندر شیکھرراؤ نے رکن اسمبلی مریال گوڑہ کو پارٹی میں شامل کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں غریب بچوں کو فیس پابجائی اور مسلمانوں کو اندرون 4 ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ و تیقنات دیتے ہوئے گمراہ کیا گیا ۔ اقتدار پر فائز ہو کر 2 سال سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں تساہلی برتی جا رہی ہے ۔ ضلع کو دوسری فصل کے لئے آبرسانی عمل میں لانے اور 10 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا وعدہ کیا گیا جو تا حال وفا نہیں ہوا ۔ صدرپردیش کانگریس کمیٹی مسٹر اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کو اقتدار حاصل ہوتے ہی ناگرجناساگر پراجکٹ خشک ہوگیا ہے ۔ دلتوں کو 3 ایکراراضی ‘ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ڈبل بیڈ روم مکانات و دیگر گمراہ کن اعلانات سے عوام کو سبز باغ دکھایا جارہاہے ۔

انہوں نے رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ اور رکن اسمبلی مریال گوڑہ پر شدید تنقید کی ۔ اپنے اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے پارٹی کے استحکام کے لئے ایک جٹ ہو کر اچانک ایک ہی شہ نشین پر براجمان ہونے والے سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی نلگنڈہ مسٹر کے وینکٹ ریڈی نے کہاکہ ایک روپئے خْرچ کئے بغیر رکن پارلیمنٹ بننے والے گتہ سکھیندر ریڈی پارٹیوں کی تبدیلی سے گریز نہیں کرتے ۔ رکن اسمبلی مریال گوڑہ جانا ریڈی کی وجہ اور رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ کو انتخابات میں کامیاب کروانے کا سہرہ حاصل ہے ۔ کانگریس پارٹی کی  ہی وجہ سے ان قائدین کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ مسٹر چندر شیکھرراؤ صرف ایراولی کے چیف منسٹر ہیں ۔ 2019 میں کانگریس کو دوبارہ کامیابی حاصل ہوگی ۔ قائد قانون ساز کونسل مسٹر شبیر علی نے کہا کہ علحدہ ریاست قائم ہونے پر عوام اورعلاقہ ترقی یافتہ ہونے کی امید تھی اور سنہرے تلنگانہ کا خواب مکمل ہونے کی امید تھی لیکن ٹی آر ایس پارٹی سربراہ پارٹی تبدیلیاں ‘ کلکشن  الیکشن اور تہواروں کا بھی نشانہ مقرر کر رہی ہے ۔ انہوں نے پارٹی تبدیل کرنے والے سکھیندرریڈی کی بھاسکرراؤ کو مواضعات میں داخل ہونے پر وفا داری تبدیل کرنے سے سوالات کرنے پر زور دیا ۔ رکن قانون ساز کونسل مسٹر کے راج گوپال ریڈی نے  صرف ٹی آر ایس کی وجہ سے علحدہ ریاست قائم نہیں ہوا بلکہ علحدہ ریاست شریمتی سونیا گاندھی کی کاوشوں کی وجہ سے قرار دیا ۔ تلنگانہ کی عوام  سونیاگاندھی کے احسان کو فراموش نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہا کہ راتوں رات پارٹی سے علحدہ ہونے والے قائدین میں جرائت ہو تو اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں ۔ ان حلقوں میں کانگریس پارٹی کی دوبارہ کامیابی حاصل ہوگی ۔ اس اجلاس کو سینئر قائد و رکن راجیہ سبھا مسٹر گوردھن ریڈی ‘ ملو روی اور دیگر نے بھی مخاطب کرتے ہوئے قائدین کارکنوں میں نیا حوصلہ پیدا کیا۔

TOPPOPULARRECENT