Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / ۔12 فیصد مسلم تحفظات پر دھوکہ دینے والے کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا حق نہیں

۔12 فیصد مسلم تحفظات پر دھوکہ دینے والے کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا حق نہیں

بی جے پی اور ٹی آر ایس میں خفیہ مفاہمت، کے سی آر اور اسداویسی بالواسطہ طور پر نریندر مودی کو فائدہ پہونچارہے ہیں

فرقہ پرستی کیخلاف مقابلے کیلئے راہول گاندھی نے کرناٹک میں
۔80 نشستوں پر کامیابی کے باوجود
۔38 نشستوں والی جماعت کو حکومت دی
کانگریس کی دعوت افطار، اتم کمار ریڈی کا خطاب

حیدرآباد 12 جون (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں دھوکہ دینے والے چیف منسٹر کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ کے سی آر اور اسدالدین اویسی بالواسطہ طور پر وزیراعظم نریندر مودی کو فائدہ پہونچارہے ہیں۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے ریڈ روز پیالس فنکشن ہال نامپلی میں اہتمام کردہ افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی، قائدین اپوزیشن کے جاناریڈی (اسمبلی)، محمد علی شبیر (کونسل)، ورکنگ پریسڈنٹ ملوبٹی وکرامارک، سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم، نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خاں، سابق ریاستی وزراء ڈی ناگیندر، ڈی کے ارونا، پنالہ لکشمیا، ایم ششی دھر ریڈی نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عابد رسول خاں، جنرل سکریٹریز ایس کے افضل الدین، عظمت اللہ حسینی، عظمیٰ شاکر، سابق ارکان پارلیمنٹ مدھو گوڑ یشکی، ایم انجن کمار یادو، صدر ضلع کانگریس نظام آباد طاہر بن حمدان، صدر ضلع کانگریس کمیٹی محبوب نگر عبیداللہ کوتوال، ترجمان مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان خالد، سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید یوسف ہاشمی، جوائنٹ سکریٹری محمد اعجازالزماں، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل، کانگریس کے قائدین جابر پٹیل، عتیق صدیقی، سید فاروق پاشاہ قادری، سابق کارپوریٹر محمد غوث، علماء مشائخین میں مفتی صادق محی الدین فہیم، امام و خطیب مکہ مسجد حافظ محمد رضوان قریشی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ اتم کمار ریڈی نے عامر علی خاں اور محمد علی شبیر کو کھجور کھلایا۔ قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ نریندر مودی کے دور حکومت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ امن و امان تباہ و تاراج ہوگیا ہے۔ انھوں نے کے سی آر کو دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اقتدار حاصل ہوتے ہوئے اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ 4 سال مکمل ہونے کے باوجود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات نہیں ملے جبکہ کانگریس پارٹی نے وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ پہونچا ہے۔ وہ مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں چیف منسٹر سے استفسار کریں سوال کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وعدہ پورا نہ

کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا بھی حق نہیں ہے۔ 4 سال تک ٹی آر ایس نے بی جے پی کے ساتھ خفیہ ساز باز کرتے ہوئے کام کیا ہے۔ صدرجمہوریہ اور نائب صدرجمہوریہ کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے بی جے پی امیدواروں کی تائید کی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی بھی بھرپور تائید کی جو خفیہ معاہدہ کا ایک حصہ ہے۔ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور مجلس کو ووٹ دینا بی جے پی کو مستحکم کرنے کے مترادف ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ اور صدر مجلس بالواسطہ مودی کو فائدہ پہونچارہے ہیں۔ کانگریس سیکولر نظریات رکھنے والی جماعت ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ہی اقلیتیں محفوظ تھے۔ کانگریس پارٹی نے ڈاکٹر ذاکر حسین اور فخرالدین علی احمد کو ملک کے جلیل القدر صدرجمہوریہ کے عہدہ پر فائز کیا۔ اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ صرف کانگریس ہی کرسکتی ہے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ماہ رمضان کے فضائل پیش کئے اور ملک و ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ روایت سے انحراف کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے افطار پارٹی کا اہتمام کرنا بند کردیا جس پر ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کانگریس پارٹی فرقہ پرستی کے سامنے آہنی دیوار بنی ہوئی ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے فرقہ پرستی کا خاتمہ کرنے کے لئے کرناٹک میں کانگریس کو 80 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کے باوجود 38 ارکان اسمبلی رکھنے والی جے ڈی ایس پارٹی کو چیف منسٹر کا عہدہ پیش کرتے ہوئے سیکولرازم کا پرچم بلند کردیا۔ کانگریس پارٹی سیکولرازم پر نہ کبھی کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کبھی مستقبل میں کرے گی۔ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرنے والی پارٹی کا نام کانگریس ہے۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہاکہ حیدرآباد ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ ہے۔ کانگریس پارٹی ہی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو عید کی پیشگی مبارکباد پیش کی۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے خطاب کرتے ہوئے سیکولر ہندوستان کے سیکولرازم کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ایک کو کوشش کرنے کا مشورہ دیا۔ امام و خطیب مکہ مسجد حافظ محمد رضوان قریشی نے دعا کی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخرالدین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل اور عظمت اللہ حسینی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

TOPPOPULARRECENT