Thursday , February 22 2018
Home / مضامین / ۔12 فیصد مسلم تحفظات پر ٹال مٹول نقصان دہ تلنگانہ میں اب کسی پارٹی کی لہر نہیں، مخلوط حکومت ممکن؟

۔12 فیصد مسلم تحفظات پر ٹال مٹول نقصان دہ تلنگانہ میں اب کسی پارٹی کی لہر نہیں، مخلوط حکومت ممکن؟

جلیل ازہر
عام انتخابات کے تعلق سے ہر سیاسی جماعتوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ اس بار انتخابات قبل از وقت ہوں گے۔ اس لئے کہ سرکاری عہدیداروں کی مصروفیات اور حکومت کی جانب سے رائے دہندوں کی فہرستوں کی تیاری اور حکمراں جماعت کے قائدین کا مسلسل عوام سے ربط اس بات کو تقویت پہونچا رہا ہے کہ عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہر اسمبلی علاقہ میں کئی ایسے دعویدار ہیں جنہیں اس بات کا یقین تھا کہ تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کا اضافہ ہوگا۔ تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے، جس کی وجہ سے دعویدار زیادہ اور حلقے کم ہوگئے ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے وعدوں کا انحراف دوسری طرف عوام میں تذبذب کی کیفیت سے یہ بات واضح دکھائی دے رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں تلنگانہ کی حکمرانی کسی ایک جماعت کے حق میں نہیں ہوگی اس لئے کہ کوئی بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ فلاں سیاسی جماعت کی لہر ہے، اب کوئی لہر کسی جماعت میںنظر نہیں آتی ۔ ظاہر ہے یہی صورتحال رہی تو ریاست تلنگانہ میں مخلوط حکومت تشکیل پاسکتی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ نے کئی ایک ا سکیمات روشناس کرتے ہوئے ہر طبقہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ریاست تلنگانہ کے کئی علاقوں میں مسلم ووٹ فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں اور یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں پیوست ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ ان اسکیمات کے بغیر صرف اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے 12 فیصد تحفظات مسلمانوں کو دیدیتے تو شائد انہیں اقتدار کے دوبارہ حصول کی خاطر انتخابی مہم چلانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ سڑکوں کی تعمیر، شادی مبارک اسکیم یا رمضان میں کپڑے غریب عوام کو فراہم کرنے سے مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی نہیں ہوتی ۔ کسی نے خوب کہا کہ ایک ساہوکار اپنی داشتہ کو کار ، بنگلہ ، پیسہ ، کپڑا ہر طرح کی آرام دہ سہولتیں فراہم کرتا ہے لیکن داشتہ کی آرزو جس چیز کیلئے سسک سسک کے دم توڑ دیتی ہے، وہ ’’اس کی مانگ کا سیندور‘‘ اسی طرح آج وزیر اعلیٰ کیلئے جنہوں نے اپنی تمام تر سیاسی طاقت صلاحیت اور تجربہ کی بنیاد پر علحدہ ریاست کے حصول کو ممکن بنایا، کیوں تحفظات ممکن نہیں ہے ؟ آج صحافت کے میدان میں نوجوان صحافی و نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان جن کو اللہ نے دولت سے نوازا ، جن کے قدموں میں شہرت نے سر رکھا ، عظمتوں نے جن کی پیشانی کو بوسہ لیا ، آج کسی بھی زاویہ سے کوئی بھی سیاسی عزائم یا کوئی بھی غرض کے صرف ملت کے مفاد کی خاطر ریاست کے ہر علاقہ میں سینکڑوں کیلو میٹر دورہ کرتے ہوئے عوام میں شعور بیدار کر ہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ روزنامہ سیاست کے ذریعہ کئی فلاحی کام انجام پارہے ہیں۔ آج عامر علی خان اگر 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے اس قدر مصروف ہیں تو اس جانب وزیر اعلیٰ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جب وزیر اعلیٰ نے علحدہ ریاست کی تحریک شروع کی تو آغاز میں لوگ یقین نہیں کر پارہے تھے کہ ریاست تلنگانہ کا حصول ممکن ہے ۔ آج اسی طرز پر ا گر حکومت سنجیدہ ہوجائے تو ہر مسلمان کے خاندان سے کم از کم ایک سرکاری ملازمت یقینی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری مسلمانوں کے تحفظات اور جناب عامر علی خان کی انتھک جدوجہد کے تناظر میں فوری ٹھوس قدم اٹھائے اور وزیر اعلیٰ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ تلنگانہ مل سکتا ہے تو تحفظات کیوں نہیں ؟ قارئین بھی یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ راقم الحروف اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست ہے ، شائد اس لئے اپنے نیوز ایڈیٹر کی خوشنودی کے لئے چند سطور سپرد قلم کررہا ہے۔ یہ غلط ہے اس لئے کہ کئی دانشوروں ، اساتذہ ، اقلیتی قائدین ، علماء حضرات نے مجھ سے ملاقات کرتے ہوئے جناب عامر علی خان کے حوصلہ اور ان کی ملت سے اٹوٹ وابستگی کی بے انتہا ستائش کرتے ہوئے مجھے قلم اٹھانے کے لئے مجبور کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں سچائی کو تحریر کی شکل میں آپکے سامنے رکھ رہا ہوں۔ آپ حضرات بھی غور کریں کہ عامر علی خان تحفظات کے حصول کیلئے جو جدوجہد کر رہے ہیں، اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ وہ جانتے ہیںکہ نتیجہ کوششوں کا نکلتا ہے ، خواہشوں کا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT