Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / ۔12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے احتجاج میں شدت

۔12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے احتجاج میں شدت

۔26 جنوری تا 15 اگست ہر ہفتہ ایک ضلع کے دورہ کا اعلان
کانگریس کے بشمول تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی ورضاکارانہ تنظیموں سے مکمل تعاون کی توقع ، آرمور میں بھوک ہڑتال سے نیوزایڈیٹر سیاست عامر علی خان کا خطاب

 

O 1000 دن مکمل ہوگئے لیکن مسلمانوں سے وعدہ وفا نہ ہوا
O چیف منسٹر میں سیاسی جستجو کے فقدان کی وجہ 12 فیصد تحفظات تعطل کا شکار
O اسمبلی و کونسل میں بل کی منظوری ، 3 سال کی جدوجہد کا نتیجہ
O کے سی آر وعدے کے کتنے پکے ہیں ، پارلیمانی اجلاس میں پتہ چل جائیگا
O اضلاع کے دورہ پر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے حتی المقدور مدد کا عزم

 

نظام آباد ؍ آرمور :24؍ جنوری (محمد جاوید علی؍ سید ظفر علی کی رپورٹ )نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’سیاست‘ جناب عامر علی خان نے 12 فیصد مسلم تحفظات میں مزید شدت پیدا کرنے کیلئے26؍ جنوری سے 15؍ اگست 2018ء تک ہر ہفتہ ایک ضلع یا اسمبلی حلقہ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ۔ کانگریس کے بشمول تمام سیاسی جماعتوں اور جماعت اسلامی کے علاوہ دوسرے مذہبی و رضاکارانہ تنظیموں سے بھی تعاون حاصل ہونے کی توقع کا اظہار کیا ۔ آرمور تحصیل آفس کے سامنے صدر ضلع نظام آباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ سمیر احمد کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے ایک روزہ بھوک ہڑتال اور دستخطی مہم کا اہتمام کیا گیا جس کو کانگریس ، تلگودیشم اور کمیونسٹ جماعتوں کے علاوہ مسجد و عیدگاہ کمیٹیوں کی جانب سے مکمل تعاون و حمایت حاصل ہوئی ۔ بھوک ہڑتال کے اختتام کے بعد دستور ساز امبیڈ کرکے مجسمہ کو 12 فیصد تحفظات کی یادداشت علامتی طور پر پیش کی گئی ۔ اس بھوک ہڑتال میں ضلع نظام آباد کے کانگریسی صدر طاہر بن حمدان ، کانگریس قائد و عثمانیہ یونیورسٹی کے لیڈر راجہ رام یادو ، نیو ڈیموکریسی کے قائد دیو رام ، سی پی آئی نیو ڈیمو کریسی کے قائد پربھاکر ، تلگودیشم کے قائد نرسمہا ریڈی ، سی پی آئی ایم کے قائد وینکٹ ، سابق صدرنشین میونسپل آرمور گنگادھر کے علاوہ دوسرے قائدین مختلف رضا کارانہ تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ عامر علی خان نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر دونوں کو سپنوں کے سوداگر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین نے انتخابات سے قبل حسین خواب دِکھائے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تمام مسائل کا تیقن دیا ۔ حکومت تشکیل دینے کے بعد اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ایک ہزار دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر میں سیاسی جستجو کا فقدان ہے جس کی وجہ سے 12 فیصد تحفظات کا مسئلہ تعطل کا شکار ہے ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات ، دلت طبقات کو تین ایکر اراضی کی فراہمی میں بھی حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ گذشتہ 3 سال سے 12 فیصد تحفظات کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ کانگریس ، تلگودیشم ، کمیونسٹ جماعتوں ، مذہبی اور رضاکارانہ تنظیموں نے بھی تحریک کا مکمل ساتھ دیا ہے ۔ حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے جماعتوں اور تنظیموں کا تعاون ناقابل فراموش ہے جس کی بدولت حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ ایس سی طبقات کیلئے بھی مشترکہ طور پر اسمبلی اور کونسل میں بل منظور کرتے ہوئے ایک اچھا کام کیا ہے۔ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کے مرض کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کا علاج مسلم تحفظات کی تجویز پیش کی ہے ۔ سدھیر کمیشن کے نام پر پہلے ایک سال ضائع کردیا گیا۔ہماری جانب سے دلائی گئی توجہ کے بعد بی سی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ بل کی اسمبلی میں منظور ی کے بعد اس بل کو مرکز سے رجوع کردیا گیا۔ ساوتھ انڈیا کانکلیو کے ایک انٹرویو میں چیف منسٹر کے سی آر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے پارلیمنٹ میں اینٹ سے اینٹ بجادینے کا اعلان کیا ۔ 29 جنوری سے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آغاز ہورہا ہے ، دیکھنا ہے چیف منسٹر اپنے وعدہ پر کتنا کھرے اتر تے ہیں۔ راج شیکھرریڈی نے 5 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کیا مگر عدالتی کشاکش کے بعد مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں چار فیصد تحفظات فراہم ہوئے۔ہم سمجھ رہے تھے کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اچھے دن آئیں گے مگر اچھے دن تو نہیں آئے پروفیسر کودنڈہ رام کے بشمول دیگر لوگوں نے بھی تلنگانہ تحریک کی تائید کی تھی وہ سب کے سی آر سے دور ہوگئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بی جے پی حکومت تشکیل دینے پر ہر شہری کے بینک اکائونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہوئی بلکہ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کے ذریعہ عوام کو پریشان کردیا گیا ۔ عامر علی خان نے کہا کہ انہوں نے سر زمین نظام آباد سے 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک شروع کی تھی تحصیلداروں ، کلکٹرس ، وزراء اور عوامی منتخب نمائندوں کو یادداشت پیش کرنے کے بعد دستور تشکیل دینے اور قانون کی عمل آوری میں اہم رول ادا کرنے والے آنجہانی امبیڈ کر کے مجسمہ کو آج 12 فیصد تحفظات کی ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مسلمان اپنے جذبات کو حکومت کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ اضلاع کے دورہ کے موقع پر 12 فیصد تحفظات کے علاوہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ملت کی ترقی سے متعلق ان کی جانب سے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ مدد اور تعاون کریں گے۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی نظام آباد طاہر بن حمدان نے 12 فیصد تحفظات کیلئے نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’سیاست‘ عامر علی خان کو روح رواں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم میں کانگریس پارٹی نے دستخطی مہم ، پوسٹ کارڈ مہم اور عوامی نمائندوں کو پیش کردہ یادداشتوں میں مکمل تعاون کیا ہے ۔ انتخابی وعدوں کو پورا کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم کے سی آ ر نے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرتے ہوئے ان کے جذبات کا استحصال کیا ہے ۔

 

کانگریس پارٹی مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ عامر علی خان اور روزنامہ ’سیاست‘ ہمارے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ۔ کانگریس قائد راجہ رام یادو نے کہا کہ ملک اور ریاست کے دو قائدین مودی اور کے سی آر گہن بنے ہوئے ہیں مرکزمیں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پانے کے بعد بیف کھانے پر امتناع عائد کردیا گیا ۔ مسلمانوںکی شریعت میں مداخلت کی جارہی ہے ۔ کے سی آر برہمن سماج کے غلام بن کر دوسرے مذاہب اور طبقات کو نظر انداز کررہے ہیں، ہندووتوا کی پیروی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چار سال کے دوران 5لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیا مگر مسلمانوں اور دلتوں سے مکمل نا انصافی کی گئی ،مسلمان آج بھی ملک میں پسماندہ طبقات سے بڑھ کر پسماندہ ہیں ۔ صدر ضلع نظام آباد کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ سمیر احمد نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو جھنجھوڑنے کیلئے آج آرمور میں ایک روزہ بھوک ہڑتال اور دستخطی مہم کا اہتمام کیا گیا ہے اور آج ایک ہی دن میں 2000 دستخطیں حاصل کی گئی ہیں۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’سیاست‘ عامر علی خان نے 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کی نظام آباد سے شروعات کی ہے، حکومت نے سدھیر کمیشن اور راملو کمیشن کے نام پر وقت ضائع کردیا ۔ اس بل کو مرکز سے رجوع کردیا۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی ، صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں ٹی آرایس نے بی جے پی کی کھل کر تائید کی۔ اب دیکھنا ہے کہ مودی مسلم 12 فیصد تحفظات کے معاملہ میں کے سی آر سے کتنا تعاون کرتے ہیں ۔ عامر علی خان کی تحریک کی وجہ سے سدھیر کمیشن ، بی سی کمیشن تشکیل پائے اور اسمبلی اور کونسل میں بل منظور ہوا ۔ عامر علی خان کی اپیل پر تمام سیاسی جماعتیں اور رضاکارانہ و مذہبی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہیں ۔ تلگودیشم کے قائد نرسمہا ریڈی نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملہ میں دھوکہ دینے کا کے سی آر پر الزام عائد کیا اور اس تحریک کو تلگودیشم کی جانب سے مکمل تعاون کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ کے سی آر سروے کے نام پر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ تلنگانہ کی مخالفت کرنے والے پون کلیان کا سرخ قالین پر استقبال کیا جارہا ہے جبکہ تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کرنے والے پروفیسر کودنڈہ رام کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے فلور لیڈر آرمور محمد محمود علی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ نیو ڈیمو کریسی کے قائد دیوم رام نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے نام پر چیف منسٹر مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے اس تحریک کو مکمل تائید کا اعلان کیا ۔ سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیمو کریسی کے قائدپربھاکر نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے 1200 نوجوانوں نے اپنی قربانیاں دی ہے مگر ایک ہی خاندان تلنگانہ پر راج کرتے ہوئے انہیں لوٹ رہا ہے۔ دلت کو چیف منسٹر بنانے کے وعدہ سے کے سی آر نے انحراف کرتے ہوئے بہت بڑا دھوکہ دیا ہے ۔ سی پی آئی ایم کے قائد وینکٹ نے کہا کہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل تمام مذاہب و طبقات کے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائی ۔ اقتدار حاصل ہونے کے بعد سب کو نظر انداز کردیا ۔ چار ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا جس کو چار سال مکمل ہونے کے بعد بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ اس موقع پر ماجد علی ، سید عتیق احمد ، حلیم ، شیخ بابو ، خالد ، فیاض کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔ عامر علی خان کے دورہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر عوام نے ان کا خیر مقدم کیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT