Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / ۔12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے وزیر اعظم سے نمائندگی کرنے چیف منسٹر تلنگانہ پر زور

۔12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے وزیر اعظم سے نمائندگی کرنے چیف منسٹر تلنگانہ پر زور

وزیراعظم کے تیقن سے فائدہ اٹھا کر منظوری حاصل کرنے کا مطالبہ : محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔14۔ فروری (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کی منظوری حاصل کریں۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ تحفظات کے مسئلہ پر وزیراعظم نے تلنگانہ حکومت کے موقف کی تائید کی اور منظوری کے سلسلہ میں ہمدردانہ غور کا تیقن دیا۔ اب جبکہ چیف منسٹر نئی دہلی میں ہیں لہذا انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کی مرکز سے منظوری حاصل کرنی چاہئے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اس بات کی وضاحت کریں کہ تحفظات سے متعلق فائل مرکز کے کس محکمہ میں زیر التواء ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اسمبلی اور کونسل میں بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کردیا تھا لیکن آج تک کوئی نہیں جانتا کہ فائل کس مرحلہ میں اور کس وزارت کے تحت زیر التواء ہے۔ چیف منسٹر کو یہ تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دفتر، وزارت داخلہ ، وزارت قانون یا پھر لوک سبھا سکریٹریٹ میں کسی ایک جگہ تحفظات کی فائل زیر التواء ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کو مسلم تحفظات سے دلچسپی ہوتی تو وہ بل کے موقف کے بارے میں پتہ چلاتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو خوش کرنے کیلئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا جبکہ حکومت کو عمل آوری میں کوئی دلچسپی نہیں۔ محمد علی شبیر نے یاد دلایا کہ انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں کے سی آر نے نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر لوک سبھا میں بڑی لڑائی کا اعلان کیا تھا لیکن پارلیمنٹ سیشن کے پہلے مرحلہ میں ٹی آر ایس ارکان نے اس مسئلہ کو نہیں اٹھایا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطبہ پر مباحث کے دوران بھی ٹی آر ایس ارکان نے تحفظات کے مسئلہ کو نہیں چھیڑا۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ سے شروع ہوگا ، اس سے قبل چیف منسٹر کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ تحفظات بل مرکز میں کس مرحلہ میں ہے۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کا یہ بہتر موقع ہے کہ کے سی آر وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے بل کی منظوری کیلئے دباؤ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ آندھراپردیش میں برسر اقتدار تلگو دیشم پارٹی ریاست سے انصاف کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، ٹی آر ایس کو اپنے مطالبات منوانے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے علاوہ تلنگانہ کو زائد فنڈس کی اجرائی اور آبپاشی پراجکٹس کیلئے مرکز سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ حاصل کرنے کیلئے وزیراعظم سے نمائندگی کی جانی چاہئے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نوٹ بندی کے اثر کے تحت بینکوں میں نقدی رقم کی قلت ہے۔ مرکزی دیہی ضمانت روزگار اسکیم کی رقومات گزشتہ چار ماہ سے ادا نہیں کی گئیں جس کے سبب دیہی علاقوں میں عوام اور بطور خاص زرعی مزدور پریشان ہیں۔ مرکز ی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ میں نقدی کی سربراہی کو یقینی بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں کے سی آر حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اسمبلی اور اس کے باہر بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن چیف منسٹر کے وعدے حقیقت میں تبدیل نہ ہوسکے۔ تلنگانہ کے عوام حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہوچکے ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT