Tuesday , November 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ۔1200 برقی ملازمین کو تلنگانہ میں برقرار رکھنے ہائی کورٹ کی ہدایت

۔1200 برقی ملازمین کو تلنگانہ میں برقرار رکھنے ہائی کورٹ کی ہدایت

تلنگانہ حکومت اور برقی کمپنیوں کو دھکا، ڈیویژن بنچ کے احکامات سے ملازمین کو راحت
حیدرآباد۔2 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اور اس کے برقی اداروں کو آج اس وقت دھکا لگا جب حیدرآباد ہائی کورٹ نے 1200 برقی ملازمین کو آندھراپردیش کو الاٹ کرنے سے متعلق احکامات کو کالعدم کردیا۔ عدالت نے تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت 1200 ملازمین کو بڑی راحت ملی ہے۔ یہ ملازمین تلنگانہ ٹرانسکو، تلنگانہ جینکو اور پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ میں برسر خدمت تھے۔ انہیں پیدائشی مقام کی بنیاد پر تلنگانہ سے آندھراپردیش کو الاٹ کردیا گیا تھا۔ جسٹس سی وی ناگرجنا ریڈی نے اور جسٹس ایم ایس کے جیسوال پر مشتمل ڈیویژن بینچ نے متاثرہ ملازمین کی درخواست کو قبول کرکے تلنگانہ حکومت اور سدرن پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی کے احکامات کو غیر دستوری قرار دیا۔ بینچ نے رولنگ دی کہ سدرن پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی نے ملازمین کے الاٹمنٹ کیلئے جو قواعد مرتب کیے ہیں اور جسے دیگر برقی کمپنیوں نے اپنایا ہے وہ غیر قانونی ہیں لہٰذا انہیں کالعدم کیا جاتا ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملازمین کے ساتھ پیدائشی مقام کی بنیاد پر امتیازی سلوک مکمل غیر قانونی اور غیر دستوری ہیں اور یہ دستور کی دفعہ 14 اور 16 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے حکومت اور برقی کمپنیوں کو ہدایت دی کہ ان تمام ملازمین کو جنہیں آندھراپردیش الاٹ کیا گیا تھا تلنگانہ برقی کمپنیوں میں کام کرنے اجازت دی جائے اور ان کی خدمات تنخواہ اور دیگر ترقیاں تلنگانہ میں شمار کی جائیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر آندھراپردیش حکومت نے ان ملازمین کو تنخواہیں ادا کی ہیں تو تلنگانہ حکومت اس کی پابجائی کردے۔ عدالت نے دونوں حکومتوں و دونوں ریاستوں کی ٹرانسمیشن اور پاور جنریشن کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ مشترکہ کمیٹی یا نئی کمیٹی کے قیام کے ذریعہ ملازمین کے مقام پیدائش کو بنیاد بنائے بغیر الاٹمنٹ کو قطعیت دینے قواعد مرتب کریں۔ اندرون دو ماہ یہ کمیٹی تشکیل دی جائے اور ملازمین کے الاٹمنٹ کا کام چار ماہ میں مکمل کرلیا جائے۔ عدالت نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل ہونے تک تلنگانہ میں کام کرنے والے آندھرا پردیش کے ملازمین سے کوئی امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ درخواست گزاروں نے اپریل 2015کو سدرن پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی کے جاری کردہ احکامات کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے حکم التوا جاری کرکے ملازمین کو خدمات برقرار رکھنے کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ سنگل بنچ کے احکامات کے خلاف تلنگانہ حکومت اور سدرن پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی نے ستمبر 2015 میں ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT