۔14 سال سے بھوک ہڑتال کرنے پر اقدام خود کشی کا کیس

کولکتہ ۔ 12 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی حکومت کے اس فیصلہ پر کہ اقدام خود کشی اب جرم تصور نہیں کیا جائے گا ۔ حقوق انسانی کی کارکن اروم چنو شرمیلا کی رہائی کے لیے نئی امید پیدا ہوگئی ہے ۔ وہ گذشتہ 14 سال سے بھوک ہڑتال ( مرن برت ) پر ہے ۔ شرمیلا کے بھائی اروم سنگھا جیت نے بتایا کہ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ حکومت مروجہ قانون میں تبدیل

کولکتہ ۔ 12 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی حکومت کے اس فیصلہ پر کہ اقدام خود کشی اب جرم تصور نہیں کیا جائے گا ۔ حقوق انسانی کی کارکن اروم چنو شرمیلا کی رہائی کے لیے نئی امید پیدا ہوگئی ہے ۔ وہ گذشتہ 14 سال سے بھوک ہڑتال ( مرن برت ) پر ہے ۔ شرمیلا کے بھائی اروم سنگھا جیت نے بتایا کہ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ حکومت مروجہ قانون میں تبدیلی کے بعد ان کی بہن کو رہا کرنے والی ہے ۔ تاہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر شرمیلا جابرانہ قانون ارمڈ فورسیس اسپیشل پاورس ایکٹ ( مسلح فورس کے خصوصی اختیارات ) کی تنسیخ کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گی ۔ جب کہ ان کے افراد خاندان اس بات کو لے کر فکر مند ہے کہ اگر منی پور کی خاتون آہن جواہر لال نہرو ہاسپٹل میں غذا لینے سے انکار کردیا تو کیا ہوگا؟ جہاں پر شرمیلا کو ایک خصوصی وارڈ میں رکھا گیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ شرمیلا کی زندگی کو یقینا خطرہ ہے ۔ لیکن وہ اپنی بھوک ہڑتال کے لیے پر عزم ہے ۔ مسلح فورس کے خصوصی اختیارات کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے 42 سالہ شرمیلا نومبر 2000 سے کھانے پینے سے انکار کردیا ۔ انہیں اقدام خود کشی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ جس کے بعد انہیں وقفہ وقفہ رہا اور گرفتار کیا جارہا ہے ۔ انہیں مرن برت کی پاداش میں ایک سال کی سزائے قید ہوسکتی ہے ۔ دریں اثناء مملکتی وزیر داخلہ ہری بھائی پرتی بھائی چودھری نے حال ہی میں راجیہ سبھا کو مطلع کیا تھا اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے مشاورت کے بعد انڈین پینل کوڈ کے دفعہ 309 کو منسوخ کردیا جائے گا ۔ تاہم منی پور کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ( انٹلی جنس ) سنتوش ماچرلہ نے بتایا کہ شرمیلا کے خلاف دفعہ 309 کے تحت صرف الزامات وضع کئے ہیں اور اقدام خود کشی کے الزام میں انہیں جوڈیشنل عدالتی تحویل میں رکھا گیا ہے

اور قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے فیصلہ کی پابندی کی جائے گی ۔ شرمیلا کے دیرینہ رفیق ببلو لوٹی تنگبم نے بتایا کہ سیکشن 309 اب ایک مجرم کو سیاسی جہدکار میں تبدیل کردے گا ۔ جب اقدام خود کشی کا قانون کالعدم قرار دیا جائے گا ۔ شرمیلا کی تحریک سیاسی رنگ اختیار کرلے گی ۔ ایک رضاکارانہ تنظیم جسٹ پیس فاونڈیشن کے بانی ببلو نے بتایا کہ شرمیلا کو محض زندہ رکھنے کے لیے سیال غذا دی جارہی ہے چونکہ شرمیلا کی زندگی بچانے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور جب بھی وہ شدت بھوک سے بے ہوش ہوجاتی ہے تو ہاسپٹل میں نالیوں کے ذریعہ غذا ٹھونسی جارہی ہے ۔ تاہم حقوق انسانی کی سرگرم کارکن بنالکشمی نپرم نے کہا کہ مسئلہ دفعہ 309 کا نہیں بلکہ AFSPA کی تنسیخ کا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT