Wednesday , June 20 2018
Home / اداریہ / ۔15 ویں پارلیمنٹ کا آخری سیشن

۔15 ویں پارلیمنٹ کا آخری سیشن

مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انھیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں 15 ویں پارلیمنٹ کا آخری سیشن

مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
انھیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں
15 ویں پارلیمنٹ کا آخری سیشن
وزیر فینانس پی چدمبرم نے جاریہ پارلیمانی سرمائی سیشن کے دوران کوئی بھی اہم قانون بل کی منظوری کے بارے میں شبہ ظاہر کیا ہے ۔ ان کے بیان سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ تلنگانہ بل کو منظور نہیں کیا جاسکے گا۔ چدمبرم نے تلنگانہ کے بارے میں شروع سے ہی آنکھ مچولی کھیلی ہے جب وہ وزیر داخلہ تھے تب سے ہی تلنگانہ مسئلہ ان کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اس آخری سیشن میں تلنگانہ بل کو منظور کرانے میں ناکامی ہوتی ہے تو پھر یہ مسئلہ سیاسی پارٹیوں کے دفاتر میں چھیکے پر اٹکا رہے گا ۔ کل ہی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھرپور اُمید ظاہر کی تھی کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران تلنگانہ بل کی منظوری کی قوی اُمید ہے ۔ ایک ہی کابینہ کے دو چہرے الگ الگ ہیں، ایک اعلیٰ چہرہ اُمید ظاہر کرتا ہے دوسرا چہرہ شبہ کا منہ بناکر ناامیدی پیدا کرتا ہے ۔ کانگریس نے بہرحال تلنگانہ بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرالینے کا عہد کیا ہے۔ اگر کانگریس نے درپردہ طورپر کوئی قانون یا بل منظور نہ کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر تلنگانہ کا بل بھی قطعی منظور ہوگا لیکن کانگریس نے تہیہ کرلیا ہے تو پھر کوئی بھی رکاوٹ تلنگانہ بل میں حائل نہیں ہوگی لیکن پارلیمنٹ میں وہ ایسا باور کرانے کی کوشش کرے گی کہ ایوان میں اپوزیشن ، خاص کر بی جے پی نے ہی تلنگانہ بل کو منظور ہونے نہیں دیا ہے ، تلنگانہ پر ایوان کی کارروائی ٹھپ کردی جائے گی ۔ 15 ویں پارلیمنٹ کے آخری سیشن کے مناظر ہنگامہ خیز ہوں گے تو سیما آندھرا کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے قائدین بھی مخالف تلنگانہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ۔ پارلیمنٹ کا یہ سیشن تلنگانہ موضوع پر ہی ختم ہوجائے گا۔ چیف منسٹر آندھراپردیش کرن کمار ریڈی سے لیکر تمام سیما آندھرا قائدین تلنگانہ بل کو روکنے ہرممکنہ کوشش کررہے ہیں ۔

کل تک اصل اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے تلنگانہ بل کی تائید کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اس کے موقف میں ڈوغلا پن ظاہر ہورہا ہے ۔ لوک سبھا کے اس آخری سیشن میں 39 بل زیرالتواء ہیں ان میں سے سرفہرست تلنگانہ بل ہے لیکن آزاد ہندوستان کی تاریخ میں لوک سبھا کی موجودہ کارکردگی کو سب سے بدترین قرار دیا جارہا ہے ۔ پارلیمنٹ کے اندر کوئی بھی لیڈر کسی مسئلہ پر سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ایوان کی کارروائی کو پرامن چلانے کیلئے پارلیمانی امور کے وزیر کمل ناتھ اور اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے کل جماعتی اجلاس میں سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی تھی لیکن اس اپیل کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ سرمائی سیشن کے آغاز سے ہی اپوزیشن ا اور حکمراں پارٹی کے درمیان شدید اختلافات اعتراضات اور احتجاج کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔ تلنگانہ بل کی منظوری کو روکنے کیلئے اگر حکومت نئے گروپ کے دباؤ کا شکار ہوجائے تو پھر نئی ریاست کے قیام کی امید موہوم ہوگی ۔ یہ نیا گروپ بی جے پی کے بغیر ہوگا جس میں سماج وادی پارٹی ، جنتادل یو ، جنتادل ایس ، انا ڈی ایم کے ، بی جے ڈی ، اے جی پی اور جے وی ایم (پی ) کے علاوہ بائیں بازو پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قائدین پر مشتمل ہوگا۔ آندھراپردیش کی تقریباً تمام مخالف تلنگانہ پارٹیوں نے دیگر ریاستوں کی علاقائی پارٹیوں اور قومی پارٹیوں کے قائدین سے ملاقات کرکے تلنگانہ بل کی حمایت نہ کرنے کی خواہش کی تھیں۔ مستقبل میں غیرکانگریس اور غیربی جے پی حکومت بنانے یا تیسرے محاذ کی صورت میں اتحاد کو فروغ دینے کے امکان کے پیش نظر مذکورہ پارٹیوں کے قائدین تلنگانہ کے خلاف پریشر گروپ کا کام کرتے ہیں تو پارلیمنٹ کا یہ سیشن بغیر کسی کام کاج کے ختم ہوجائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تلنگانہ کے خلاف مہم چلانے والوں کی تعداد جتنی ہے اور جس شدت سے نمائندگی ہورہی ہے اتنی ہی سست رفتاری اور عدم دلچسپی سے تلنگانہ کے قائدین اس مطالبہ کے حق میں سردمہری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچیکہ ٹی آر ایس لیڈر چندرشیکھر راؤ نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کرکے تلنگانہ کے قیام کیلئے پرزور نمائندگی کی اور تلنگانہ بل کو منظور کرانے پر زور دیا ہے لیکن تلنگانہ حامی سیاسی پارٹیوں میں علحدہ ریاست کے حصول کے مقصد میں جوش و جذبہ اور اتحاد دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔

اصل اپوزیشن بی جے پی نے بھی شاید یہ نوٹ کرلیا ہے کہ قومی سطح پر اسے اقتدار حاصل کرنا ہے تو علاقائی پارٹیوں کو ناراض نہیں کیا جاسکتا اس لئے وہ حتی الامکان یہی کوشش کرے گی کہ تلنگانہ بل کی تائید سے سیما آندھرا قائدین ناراض نہ ہوں ۔ بی جے پی اپنے لئے محفوظ راستہ تلاش کررہی ہے ۔ تلنگانہ کے تعلق سے اگر بی جے پی نے منہ توڑلیا تو یہ اس کی سب سے زیادہ افسوسناک حرکت ہوگی ۔ اس کا دوغلا پن بھی کانگریس کے ظاہری پن کے سامنے بہتر ہوگا کیوں کہ کانگریس کے رویہ سے واضح ہورہا تھا کہ تلنگانہ بل پر وہ سنجیدہ ہے لیکن وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو تلنگانہ بل پر راضی کرانے میں ناکام رہی ۔ سیما آندھرا کے کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر مخالف تنگانہ مہم کو مضبوط بنالیا ہے ۔ ایسے میں تلنگانہ کے قیام کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی ۔ بہرحال 15 ویں پارلیمنٹ کا یہ آخری سیشن تلنگانہ بل کی منظوری کے بغیر ہی ختم ہوجائے تو قومی سیاسی پارٹیوں کا اعتبار متزلزل ہوجائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT