۔1965عازمین حج کو 65 تا 69 سال کے زمرہ میں شامل کیا جائے

مرکزی حکومت کو چیف جسٹس زیرصدارت سپریم کورٹ کی بنچ کا حکم

نئی دہلی۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مسلم عازمین حج جن کی عمر 65 تا 69 سال ہے اور حج کیلئے ان کی درخواستیں پانچویں مرتبہ نامنظور کی جاچکی ہیں، ان کے بارے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ ایسے 1965 عازمین حج کو جاریہ سال مکہ معظمہ کا سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چور پر مشتمل سپریم کورٹ کی بینچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ جو افراد پانچ یا اس سے زیادہ حج پر روانگی کیلئے درخواست دے چکے اور ناکام رہ چکے ہیں، انہیں جاریہ سال 65 تا 69 سال کے زمرے میں شامل کرکے انہیں مکہ معظمہ سفر کرنے اور حج کی سعادت حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے سپریم کورٹ کو اطلاع دی تھی کہ وزارت 65 تا 69 سال کے درمیان والے زمرہ کے تمام عازمین حج کو جاریہ سال حج کی سعادت حاصل کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایسے تمام عازمین حج جن کی حج کیلئے درخواستیں پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ مسترد کی جاچکی ہوں، انہیں جاریہ سال حج کے سفر کا موقع فراہم کیا جائے۔ بینچ نے کہا کہ ایسے افراد کی تعداد 1965 ہے اور وہ تمام اخراجات برداشت کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ اس کے پیش نظر عدالت نے یقین ظاہر کیا کہ ان 1965 افراد کو جاریہ سال حج کی ادائیگی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ مرکز کی حج پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ درخواست کی سماعت کررہی تھی۔

وزارت اقلیتی اُمور کے بجٹ کے خرچ میں اضافہ کا دعویٰ : مختار عباس نقوی
نئی دہلی۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ ان کی وزارت بجٹ میں مختص رقم کے خرچ کے اعتبار سے سابقہ برسوں کی بہ نسبت آگے آچکی ہے اور زیادہ رقم خرچ کرچکی ہے۔ ایک پارلیمانی کمیٹی نے تبصرہ کیا تھا کہ فنڈس کا ضرورت سے کم استعمال کیا گیا ہے۔ مختار عباس نقوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بڑی اسکیموں میں جاریہ مالی سال کے اختتام تک مختص مکمل رقم خرچ کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ مکمل رقم خرچ نہیں کی جاسکی تاہم وزارت اقلیتی اُمور نے سابقہ برسوںکی بہ نسبت زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ مکمل رقم جاریہ مالی سال کے ختم تک خرچ کردی جائے گی۔ سماجی انصاف و بااختیاری کی مجلس قائمہ نے 8 مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مایوسی ظاہر کی تھی کہ بجٹ میں مختص رقم کا خرچ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے کم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزارت نے اس سلسلے میں کوئی تجاویز بھی پیش نہیں کی ہیں۔ کمیٹی کے تبصرہ پر وزارت اقلیتی امور تنقید کا نشانہ بن گئی تھی۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ان کی وزارت کی 99 فیصد اسکیمیں آن لائن کی جاچکی ہیں اور جاریہ سال کے اختتام تک مکمل رقم خرچ کردی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT