Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / ۔1993ء کے بم دھماکے اور مقدمہ بازی

۔1993ء کے بم دھماکے اور مقدمہ بازی

ممبئی ۔ 7 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چوبیس سال بعد جبکہ 12 مارچ 1993ء کو ممبئی 12 دھماکوں سے دہل گیا تھا اور 257 جانیں تلف ہوئیں، آج یہاں ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے دو ملزمین کو سزائے موت اور دو دیگر بشمول ابوسالم کو عمرقید کی سزاء سنائی، جو اس کیس میں ٹرائل کا دوسرا مرحلہ ہوا۔ اس کیس میں جس کی اصل سنوائی 2007ء میں اختتام پذیر ہوئی، اس کے سلسلہ وار واقعات ؍ تبدیلیاں حسب ذیل ہیں۔ اس کیس کے 7 ملزمین کے ٹرائل کو علحدہ کیا گیا جس میں سے 6 کو 16 جون کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔
l 12 مارچ 1993ء : 12 دھماکوں سے ممبئی دہل گیا جس کے نتیجہ میں 257 ہلاکتیں ہوئی اور 713 دیگر زخمی ہوئے۔ l 19 اپریل 1993ء : بالی ووڈ ایکٹر سنجے دت (ملزم نمبر 117) کو گرفتار کیا گیا۔ l 4 نومبر 1993ء : زائداز 10,000 صفحات طویل ابتدائی چارج شیٹ 189 ملزمین بشمول سنجے دت کے خلاف داخل کی گئی۔ l 19 نومبر 1993ء : کیس سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا۔ l 10 اپریل 1995ء : 26 ملزمین کو ٹاڈا کورٹ نے بری کردیا۔ بقیہ ملزمین کے خلاف الزامات وضع کے گئے۔ سپریم کورٹ نے مزید دو ملزمین ٹراویل ایجنٹ ابوعاصم اعظمی (سماج وادی پارٹی لیڈر) اور امجد مہر بخش کو بری کردیا۔ l 19 اپریل 1995ء : ٹرائل کے پہلے مرحلہ کی شروعات۔ l 18 ستمبر 2002ء : ابوسالم کو لزبن، پرتگال میں حراست میں لیا گیا۔ l 20 مارچ 2003ء : ملزم مصطفی دوسا کو سی بی آئی نے آئی جی آئی ایرپورٹ، نئی دہلی پر دبئی سے اس کی آمد کے ساتھ ہی گرفتار کرلیا۔ l ستمبر 2003ء : اصل سنوائی کا اختتام۔ ممبئی کی ٹاڈا کورٹ نے فیصلہ محفوظ کردیا۔ l 11 نومبر 2005ء : ابوسالم کو ہندوستان لایا گیا۔ l 12 ستمبر 2006ء : ٹاڈا کورٹ جج پی ڈی کوڈے نے فیصلہ سنانے کی شروعات کرتے ہوئے میمن فیملی کے چار ارکان کو مجرم قرار دیا اور تین دیگر کو بری کردیا۔ بعد میں 12 مجرمین کو سزائے موت اور 20 دیگر کو عمر قید کی سزاء سنائی گئی۔ دیگر مجرمین کو مختلف سزائیں دی گئی۔ l 16 مارچ 2013ء : سنجے دت نے سپریم کورٹ میں سزا دہی برقرار رکھے جانے کے بعد خود کو عدالت کے سپرد کردیا۔ l 30 جولائی 2015ء : کلیدی سازشی اور اس کیس میں سزائے موت کے واحد مجرم یعقوب میمن کو پھانسی دی گئی۔ l 7 ڈسمبر 2015ء : ٹرائل کے دوسرے مرحلہ کے قطعی مباحث کی شروعات۔ l 7 ستمبر 2017ء : عدالت نے طاہر مرچنٹ اور فیروز عبدالرشید خان کو سزائے موت، ابوسالم اور کریم اللہ خان کو عمر قید نیز 10 سال کی قید ریاض صدیقی کو سنائی۔

TOPPOPULARRECENT