Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ۔2 رئیل اسٹیٹ تاجرین کیخلاف محکمہ انکم ٹیکس کی دوسرے دن بھی کارروائی

۔2 رئیل اسٹیٹ تاجرین کیخلاف محکمہ انکم ٹیکس کی دوسرے دن بھی کارروائی

شاہنواز خان اور سید اختر کی پاش علاقوں میں جائیدادیں ، فرضی کمپنیوں کے نام پر کروڑہا روپئے کا لین دین

زیورات کے تاجر سکیش گپتا سے تعلقات
بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ، پرتعیش زندگی
تحقیقات میں کئی اہم انکشافات ہوں گے

حیدرآباد ۔ /26 اکٹوبر (سیاست نیوز) پرانے شہر کے دو رئیل اسٹیٹ تاجرین کے خلاف انکم ٹیکس کی کارروائی کا سلسلہ آج دوسرے دن بھی جاری رہا جہاں ان کی جائیدادوں ، دفاتر اور مکانات پر دھاوے جاری رکھتے ہوئے غیر محسوب اثاثہ جات ، فرضی کمپنیوں اور ٹیکس چوری کا پتہ چلایا گیا ۔ اس اچانک اور غیرمتوقع کارروائی نے کئی سیاسی قائدین کو بوکھلاہٹ سے دوچار کردیا ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کی تحقیقات میں مزید کئی نامی گرامی چہرے منظر عام پر آئیں گے ۔ اب تک کی کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر رقمی خردبرد کا پتہ چلایا گیا ۔ حکام نے آج شاہ نواز خان کے مکان اور آفس پر دھاوا کیا تو بعض فرضی دستاویزات کا پتہ چلا۔ شاہ نواز خان کے مشہور جیولر سکیش گپتا سے تجارتی روابط کا انکشاف ہوا ۔ سکیش گپتا نے فرضی کمپنی سینو گولڈ کو 25 کروڑ روپے مالیتی سونا فروخت کیا ۔ اس فرضی کمپنی سینو گولڈ نے شاہ نواز خاں کی جانب سے حالیہ دنوں قائم کی گئی ایک اور فرضی کمپنی کنگس ریڈیو ایکزیم پرائیویٹ لمیٹیڈ کو ایک بھاری رقم بطور قرض دی ۔ حالانکہ یہ ایک فرضی معاملت تھی جس میں رقم کا کوئی تعین نہیں کیا گیا اور یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ فی الواقعی اتنی بڑی رقم کمپنی کے حوالے کی گئی ۔ شاہ نواز خان کے روڈ نمبر 12 بنجارہ ہلز ، گڈی ملکاپور اور سید علی گوڑہ میں بھی کئی قیمتی جائیدادیں موجود ہونے کا پتہ چلا ہے ۔ پرانے شہر میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی اس کارروائی نے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں ۔

مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار جو ہمیشہ غریبوں کے مسائل کا تذکرہ کرنے سے نہیں تھکتے لیکن ان کی معاشی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات پر توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔ اس کے برعکس پرانے شہر کے سیاسی قائدین کے دست راست تصور کئے جانے والے کم عرصہ میں کروڑہا روپئے کے مالک بن بیٹھے ہیں ۔ اگر قیادت کو مسلمانوں کی معاشی ترقی سے حقیقی دلچسپی ہوتی تو کروڑہا روپئے کی رقم چند افراد کے ہاتھوں میں نہ ہوتی بلکہ اس کے ذریعہ لاکھوں مسلمانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جاتے ۔ ان رئیل اسٹیٹ تاجرین نے فرضی کمپنیاں قائم کرتے ہوئے کروڑہا روپئے کے غیرمحفوظ قرضہ جات حاصل کئے اور اپنی پرتعیش زندگی پر بھاری رقومات خرچ کئے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انکم ٹیکس تحقیقاتی ٹیموں نے ان کے قبضہ سے کروڑہا روپئے مالیتی امپورٹیڈ کاریں برآمد کیں ۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر (انوسٹی گیشن) مسٹر شاکر حسین کی نگرانی میں پرانے شہر کے بڑے رئیل اسٹیٹ تاجر شاہنواز خان کے مکان اور شادی خانوں پر تلاشی آج مکمل ہوئی ۔ جبکہ ٹولی چوکی نظام کالونی کے رئیل اسٹیٹ تاجر سید اختر کے مکان پر انکم ٹیکس عہدیداروں کی تلاشی بھی اختتام کو پہونچی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سید اختر کے مکان پر دھاوے کے دوران 56 تا 60 کروڑ کی ٹیکس چوری کی رقمی لین دین کا پتہ لگایا جانے کی اطلاع ہے اور سید اختر نے اس کا ٹیکس ادا کردینے کا محکمہ انکم ٹیکس عہدیداروں کو وعدہ کیا ہے ۔ انکم ٹیکس نے یہ بھی پتہ لگایا ہے کہ سید اختر ایس اے ڈیولپرس کے نام سے ایک کمپنی چلاتا ہے اور ٹولی چوکی کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں پلاٹنگ کی ہے ۔ انکم ٹیکس عہدیداروں نے ایک اور رئیل اسٹیٹ تاجر وینکٹیشور ریڈی (یوگیاندر رئیل اسٹیٹ) کے دفتر واقع وجئے واڑہ پر بھی دھاوا کیا ہے اور یہ پتہ لگایا ہے کہ یہ ریل اسٹیٹ تاجر نے اپنے ڈرائیور کے نام پر 10 کروڑ کا چیک حاصل کیا ۔ اور یہ رقم اراضی فروخت کرنے پر حاصل ہوئی تھی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دو دن سے جاری انکم ٹیکس کے دھاوے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل انوسٹی گیشن (تلنگانہ و آندھراپردیش) مسٹر سولجی جوس کی راست نگرانی میں کئے گئے ہیں اور دھاوؤں میں ضبط کئے گئے دستاویزات کا کل سے تجزیہ کیا جائے گا ۔

 

TOPPOPULARRECENT