Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / ۔20 ریاستوں میں اُجرتوں کی ادائیگی موقوف

۔20 ریاستوں میں اُجرتوں کی ادائیگی موقوف

 

نئی دہلی۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مالی سال 2017-18ء کو مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (ایم جی این آر ای جی اے) کے تحت اب تک کے سب سے زیادہ فنڈس کے الاٹمنٹ والا سال قرار دیئے جانے کے باوجود سرکاری ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُجرتوں کی تقسیم ایک دو نہیں بلکہ 20 ریاستوں میں ستمبر سے منجمد ہے۔ اس اسکیم کی سرکاری ویب پورٹل پر دستیاب مواد کے مطابق اُجرتوںکی منظوریوں پر تعطل ستمبر کے ابتدائی دو ہفتوں میں شروع ہوا اور یہ آسام، کرناٹک، پنجاب، ٹاملناڈو، ہریانہ، یوپی، چھتیس گڑھ، راجستھان، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، کیرالا، اڈیشہ، ہماچل پردیش، اُتراکھنڈ، بہار اور پوڈوچیری سے متعلق ہے۔ ان میں سے 6 ستمبر تک آسام سے آنے والی درخواستوں کے لئے کوئی ادائیگی منظور نہیں کی گئی۔ اسی طرح کرناٹک (7 ستمبر)، پنجاب (11 ستمبر) اور راجستھان (14 ستمبر) میں مذکورہ تواریخ سے کوئی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ بقیہ ریاستوں میں ادائیگیاں زائد از 90% معاملوں میں منجمد ہیں۔ دیگر ریاستوں جیسے مہاراشٹرا (7 اکتوبر)، تریپورہ (26 اکتوبر)، مدھیہ پردیش (10 اکتوبر) اور گجرات (22 اکتوبر) نے بھی اُجرتوں کی تقسیم موقوف کر رکھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے تحت ادا ہونے کی جانے والی اُجرتیں کئی مرحلوں کی منظوریوں سے گذرتی ہیں۔ سب سے پہلے ضلع سطح پر فنڈ ٹرانسفر آرڈر (ایف ٹی او) اُجرتوں کے سلسلے میں تیار کیا جاتا ہے اور پھر ریاست کی سطح پر یہ کام ہوتا ہے۔ اس طرح کی درخواستیں سب سے پہلے مرکز کے زیرانتظام پبلک فینانشیل مینجمنٹ سسٹم کے ذریعہ منظور ہونا پڑتا ہے اور پھر نوڈل ایم جی این آر ای جی اے بینک سے گذرنا پڑتا ہے جہاں سے ادائیگیوں کو کھاتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر پی ایف ایم ایس کا مثبت ردعمل نہیں ہوتا ہے تو ایف ٹی اوز معرض التواء رہ جاتے ہیں۔ اکتوبر کے اختتام تک رائٹس گروپ نریگا سنگھرش مورچہ نے کہا تھا کہ بہ لحاظ 20 اکتوبر 3,066 کروڑ روپئے تک کی ادائیگیاں بدستور منجمد پائی گئیں۔ یہ ایسی ادائیگیاں ہیں جن کے لئے ایف ٹی اوز پہلے اور دوسرے مرحلوں کی منظوریوں سے آگے بڑھ چکے ہیں اور مرکز کی سطح پر معرض التواء ہیں۔ ایم جی این آر جی اے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم نے اس سارے عمل میں ریاستی سطح پر تاخیر کی نشاندہی کی ہے، مرکزکی جانب سے خامی نہیں بتائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT