Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ۔2014 کے بعد 13 ریاستوں میں ’ پاکستان ‘ انتخابی مدعا

۔2014 کے بعد 13 ریاستوں میں ’ پاکستان ‘ انتخابی مدعا

۔7 ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ ، 4 صوبوں میں نقصان ، گجرات اور ہماچل کا نتیجہ آنا باقی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ دسمبر : ( ایجنسیز ) : گجرات اسمبلی انتخابات میں پاکستان کو لے کر بی جے پی اور کانگریس قائدین الزامات و جوابی الزامات جم کر کررہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کے سبھی بڑے قائدین فائدے کے حساب سے دلیلیں دے رہے ہیں ۔ حالانکہ ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کو لے کر بحث چھڑی ہو ، واضح رہے کہ 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے گجرات ، ملک کی 18 ویں ریاست ہے جہاں انتخابات ہورہے ہیں ، ان 18 ریاستوں میں سے 13 ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس نے پاکستان سے جڑی باتوں کو انتخابی مدعا بنایا ہے ، ان 13 میں سے 7 ریاستوں میں بی جے پی کو اس کا فائدہ ہوا جب کہ 4 ریاستوں میں اسے نقصان ہوا ۔ جس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے : گجرات : 27 نومبر کو ریاست گجرات کے مقام ’ کچ ‘ میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’پاکستانی عدالت نے دہشت گردوں کو رہا کردیا ، کانگریس اس کا جشن منا رہی ہے ، یہ وہی کانگریس تھی جس نے سرجیکل اسٹرائیک پر یقین نہیں کیا تھا ‘ ۔ اسی طرح 10 دسمبر 2017 کو ریاست کے پالن پور میں مودی نے کہا کہ ’ کانگریس کے لیڈرس پاکستانی فوج کے سابق ڈی جی کے ساتھ حکمت عملی بنا رہے ہیں ‘ ۔ بہار : 29 اکٹوبر 2015 کو امیت شاہ نے بہار انتخابات میں پاکستان کا ذکر کیا تھا ، انہوں نے رکسول ضلع کی ریالی میں کہا تھا کہ ’ اگر غلطی سے بھی بی جے پی بہار میں ہار گئی تو پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے ‘ ۔ اسی طرح راجیو پرتاپ روڑی نے پاک نیوز پیپر ڈان ویب سائیٹ کا اسکرین شاٹ و ووٹ کی اپیل کرتے ہوئے نتیش کاریڈ ٹوئیٹ کیا ۔ اترپردیش : یو پی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں وزیراعظم مودی نے 4 فروری 2017 کو میرٹھ کی انتخابی ریالی میں سرجیکل اسٹرائیک کا ذکر کیا اور کہا کہ ’ ہماری حکومت نے پاکستان میں گھس کر پانی پانی کا حساب چکایا ہے ‘ ۔

اسی طرح 24 فروری 2017 کو گونڈا میں ایک پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کانپور میں ہوئے ریل حادثہ کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا ۔ جموں و کشمیر : جنوری 2014 میں کہا گیا تھا کہ کجریوال ، پاکستان کے ایجنٹ ہیں ۔ واضح رہے کہ دہلی اور جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کچھ ہی مہینے کے وقفہ سے ہوتے تھے ۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے کٹھوا ریالی میں کہا تھا کہ ’ یہ تین A ‘ کے پاکستان کی تین طاقت بن کر ابھرے ہیں ، پہلا اے کے 47 ‘ ہیں ۔ دوسرا ’ اے ‘ کے ’ اینٹنی ‘ ہیں ۔ تیسرا ’ اے ‘ کے ’ اے کے 49 ‘ جس نے ابھی نئی پارٹی بنائی ہے ۔ پارٹی کی ویب سائیٹ پر کشمیر کو پاکستان میں دکھایا گیا ہے ‘ ۔ پنجاب : 29 جنوری 2017 کو پنجاب کے کوٹک پور میں ایک انتخابی ریالی میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’ پاکستان ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے ، وہ ہمیشہ پنجاب کی زمین کے استعمال کی فراق میں رہتا ہے ۔ اگر یہاں حکومت ڈھیلی ڈھالی ( کمزور ) آجائے تو صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کو مصیبت کے دور سے گذرنا ہوگا ‘ ۔ مہاراشٹرا : 9 اکٹوبر 2014 کو مہاراشٹرا انتخابات کے موقع پر بارہ متی میں ایک ریالی میں مودی نے کہا تھا کہ ’ آج جب سرحد پر گولیاں چل رہی ہیں ، تب دشمن کراہ رہا ہے ، ہمارے جوانوں نے جرات و بہادری کے ساتھ جواب دیا ہے ، دشمن سمجھ گیا ہے کہ وقت بدل گیا ہے ، پرانی عادتیں برداشت نہیں کی جائیں گی ۔ لوگ میرے ارادے کو جانتے ہیں ‘ ۔ اسی طرح مہاراشٹرا ہی میں 10 اکٹوبر 2014 کو انتخابات کے موقع پر راہول گاندھی نے ’ ڈنڈوری ‘ کی ریالی میں پاکستان کا اس طرح ذکر کیا کہ ’ لوک سبھا انتخابات میں مودی نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کو مضبوط بنائیں گے ۔

پاکستان کو سبق سکھائیں گے ۔ پاکستان ہمارے جوانوں پر گولی چلا رہا ہے ‘ ۔ گجرات : 25 نومبر 2017 کو راہول گاندھی نے حافظ سعید کی رہائی پر ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’ نریندر بھائی بات نہیں بنی ، دہشت گردوں کا ماسٹر مائینڈ آزاد ہے ۔ گلے لگانے کی پالیسی کام نہیں آئی ‘ ۔ آسام : 2016 میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے آسام میں ایک ریالی میں کہا تھا کہ ’ پاکستان کو لے کر مودی کی پالیسی کمزور ہے ‘ ۔ واضح رہے کہ اتوار کو پاکستان بھی انتخابی مدعا بن گیا ۔ اس کے بعد سے ملک کی سیاست میں بیان بازی کا دور چل رہا ہے ۔ مودی کی تقریر میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری کا نام آنے کے بعد پاکستان نے اس پر اعتراض کیا ہے ۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہلی ، آسام ، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال ، ہریانہ ، اتراکھنڈ اور ہماچل میں بھی پاکستان پر سیاست ہوئی ہے ۔ ابھی ہماچل پردیش اور گجرات کے نتائج آنے باقی ہیں ۔ بی جے پی کو 13 میں سے 7 ریاستوں میں فائدہ اور چار ریاستوں میں نقصان ہوا ہے ۔ کانگریس کو پنجاب میں فائدہ ہوا ، گجرات میں تقریبا 90 فیصد ہندو رائے دہندے ہیں ، بی جے پی 22 سال سے پاور میں ہے ، گجرات کو بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کی لیبارٹری مانا جاتا ہے ۔ نریندر مودی کی ہندوتوا امیج نے بی جے پی کو پورے ملک میں ڈھاک جما دی ہے ۔ رام مندر احتجاج کو آگے بڑھانے والے اور بی جے پی کے سینئیر لیڈر لال کرشن اڈوانی بھی گجرات کے ہی ہیں ۔ کانگریس اس مرتبہ یہاں ذات پات کی پالیسی کا کارڈ کھیل رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں بی جے پی نے یہاں ہندوتوا کا کارڈ کھیلا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT