Tuesday , September 18 2018
Home / ہندوستان / ۔2017 میں 822 فرقہ وارانہ فسادات، 111 افراد ہلاک ، 2,384 زخمی

۔2017 میں 822 فرقہ وارانہ فسادات، 111 افراد ہلاک ، 2,384 زخمی

اُترپردیش سرفہرست ، مودی حکومت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ، دوسرے درجہ کے شہریوں جیسا سلوک
نئی دہلی۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی ترقی کے لاکھ دعوے کرلیں یا ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے دلفریب نعرے بلند کرلیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ تعصب برتا جارہا ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہریوں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے۔ ہندوتوا فورسیس مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی کا فائدہ اٹھاکر مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ فرقہ پرستوں کو پولیس کی جانبدار رویہ سے بھی حوصلہ ملا ہے۔ نتیجہ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں آئے دن فرقہ وارانہ فسادات پیش آرہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2017ء میں ملک میں 822 فرقہ وارانہ فسادات پیش آئے جن میں 111 افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 2,384 سے زائد رہی۔ یہ ہم یوں ہی نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر نے لوک سبھا میں یہ اعداد و شمار پیش کئے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی قدیم روایات کو مزید نقصان پہنچنے کا امکان پایا جاتا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں مرکزی و بی جے پی زیراقتدار ریاستوں کی خاموشی کے نتیجہ میں آپے سے باہر ہوگئی ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کی تعداد کے معاملے میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش سرفہرست ہے جہاں یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت ہے۔ وہاں پچھلے سال فرقہ وارانہ فسادات کے 195 واقعات پیش آئے جن میں 44 افراد ہلاک اور 542 زخمی ہوئے۔ کرناٹک میں جہاں کانگریس کی حکومت ہے۔ ہندوتوا فورسیس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی جان توڑ کوششیں کررہی ہیں جس کا مقصد عوام میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر انہیں مذہب کے نام پر تقسیم کرتے ہوئے ریاست میں اقتدار بی جے پی کو واپس لانا ہے۔ ہندوستانیوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ مرکز میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے جس کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے سیاسی عزائم کی تکمیل کرلیتی ہے۔ اسے ہندوؤں کے مفادات ان کی ترقی و خوشحالی سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ اسے اپنے مفادات کی فکر لاحق رہتی ہے۔ بہرحال ہم کرناٹک کی بات کررہے تھے۔ جنوبی ہند کی ریاست میں گزشتہ سال 2017ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے 100 واقعات رونما ہوئے جن میں 9 افراد ہلاک اور 229 زخمی ہوئے۔ راجستھان میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے 91 واقعات میں 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 175 زخمی ہوئے۔ مملکتی وزیر داخلہ نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ سال گزشتہ بہار میں فرقہ وارانہ فسادات کی تعداد 85 رہی جن میں 3 افراد ہلاک اور 321 زخمی ہوئے۔ مدھیہ پردیش بھی بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں شامل ہے۔ اس ریاست میں گزشتہ سال فرقہ وارانہ فسادات کے 60 واقعات پیش آئے۔ ان میں مرنے والوں کی تعداد 9 اور زخمیوں کی تعداد 191 رہی۔ ممتا بنرجی کی ریاست مغربی بنگال میں بھی فرقہ پرست جماعتیں عوام کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے 58 واقعات پیش آئے جن میں 9 افراد ہلاک اور 230 زخمی ہوئے۔ گجرات میں 2017ء کے دوران فرقہ وارانہ نوعیت کے 50 فسادات ہوئے جن میں 8 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کے مطابق 2016ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے 703 واقعات رونما ہوئے جن میں 86 افراد ہلاک اور 2,321 زخمی ہوئے۔ اس کے برعکس 2015ء میں فرقہ وارانہ فسادات کی تعداد 751 رہی جن میں 97 افراد ہلاک اور 2,264 زخمی ہوگئے

TOPPOPULARRECENT