Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ۔2019ء کے لوک سبھا انتخابات کیلئے نئی سیاسی صف بندی کا امکان

۔2019ء کے لوک سبھا انتخابات کیلئے نئی سیاسی صف بندی کا امکان

بی جے پی کے دن گھٹ رہے ہیں، ووٹوں کے فیصد میں نمایاں کمی، سدھاکر ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔ 18 مارچ (پی ٹی آئی) سی پی آئی نے آج کہا کہ اترپردیش کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے پس منظر میں ملک میں آئندہ سال کے عام انتخابات میں سیاسی قوتوں کی دوبارہ شیرازہ بندی ہوسکتی ہے۔ سی پی آئی کے جنرل سیکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ اترپردیش، بہار اور راجستھان کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ اشارہ دیا ہے کہ بی جے پی کے دن گھٹ رہے ہیں اور این ڈی اے کی قیادت کرنے والی اس پارٹی سے عوام بیزار ہوچکے ہیں۔ سی پی آئی کے جنرل سیکریٹری نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیاسی قوتوں کی دوبارہ شیرازہ بندی کا امکان ہے۔ سیاسی صف بندی ہی وہ پالیسی ہے جس کے بارے میں سی پی آئی ابتداء سے زور دیتی رہی ہے۔ راست مقابلہ ہونا چاہئے۔ اگرچہ نہیں ہوتا تو کم سے کم تمام جماعتوں کے مابین کل ہند سطح پر مفاہمت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں امید کرتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوک سبھا حلقوں میں یہ (مفاہمت) ہوگی۔ اترپردیش ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد اب ہم یقین کرسکتے ہیں کہ یہ ملک میں بی جے پی اقتدار کے خاتمہ کی شروعات ہے‘‘۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ایس پی اور بی ایس پی کے ووٹوں کی تعداد میں بھاری اضافہ ہوا ہے لیکن بی جے پی کے ووٹوں کے حصہ میں قابل لحاظ کمی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس بات پر غور کرنا دلچسپ ہوگا کہ حلقہ لوک سبھا گورکھپور میں ایس پی اور بی ایس پی کے ووٹوں کے حصہ میں معمولی یعنی 5% تا 6% کی کمی ہوئی ہے لیکن بی جے پی کے ووٹوں میں 3 لاکھ سے 5 لاکھ تک کی کمی ہوئی ہے۔ پھولپور میں بھی بی جے پی اپنے ووٹوں کی قابل لحاظ تعداد سے محروم ہوئی ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے 2014ء میں گورکھپور میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور گزشتہ سال چیف منسٹر مقرر کئے جانے کے بعد لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوئے تھے جس کے بعد تلگو دیشم پارٹی ، بہار کے سابق چیف منسٹر نیتن رام مانجھی مرکز میں نریندر مودی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت سے علیحدہ ہوگئے تھے جس کے ملک کی سیاسی صورتحال پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT