Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / ۔2019 ء میں نریندر مودی نہیں بن سکتے وزیراعظم : راہول گاندھی

۔2019 ء میں نریندر مودی نہیں بن سکتے وزیراعظم : راہول گاندھی

یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں
ایڈیٹرس کے روبرو صدر کانگریس کا شاندار مظاہرہ، صلاحیت اور قابلیت کا ہر کوئی قائل
حیدرآباد ۔ 14۔ اگست (سیاست نیوز) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج قومی اور علاقائی میڈیا کے ایڈیٹرس کو اپنی بے پناہ صلاحیت اور قابلیت کا قائل کردیا۔ ریاست کے دو روزہ دورہ کے دوسرے دن آج راہول گاندھی نے مختلف زبانوں کے قومی اور علاقائی اخبارات اور نیوز چیانلس کے ایڈیٹرس اور سینئر جرنلسٹس سے ملاقات کی۔ یہ پہلا موقع تھا جب راہول گاندھی نے بیک وقت اس قدر بڑی تعداد میں ایڈیٹرس کا سامنا کیا ہو۔ ہوٹل ہریتا پلازا میں اس ملاقات کا اہتمام کیا گیا جس میں تقریباً 90 سینئر صحافیوں نے شرکت کی اور راہول گاندھی کی سماعت کے بعد ان سے سوالات کئے ۔ میٹنگ ہال میں راہول گاندھی ابتدائی خطاب کے بعد شہ نشین سے اتر آئے اور ہر ٹیبل پر پہنچ کر وہاں موجود ایڈیٹرس سے بات چیت اور ان کے سوالات کا جواب دیا ۔ تلنگانہ میں عام طور پر یہ رجحان ہے کہ میڈیا کا زیادہ تر حصہ برسر اقتدار ٹی آر ایس کے ساتھ ہے لیکن آج ٹی آر ایس کے حامی اخبارات اور نیوز چیانلس کے نمائندے بھی راہول گاندھی کی مدلل باتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ قومی مسائل سے لیکر ریاست کو درپیش مسائل اور عوام سے ٹی آر ایس حکومت کے وعدوں کے بارے میں راہول گاندھی نے اظہار خیال کیا۔ ایک بھی سوال ایسا نہیں تھا جس کا جواب راہول گاندھی کے پاس نہ ہو۔ کوئی بھی ایڈیٹر اور صحافی ان کے جواب سے مطمئن ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔ ملک میں حالیہ عرصہ میں رافیل ڈیل تنازعہ کا سبب بن چکا ہے اور راہول گاندھی نے اس معاملت میں مبینہ بے قاعدگیوں اور کرپشن کو بے نقاب کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف ملک بھر میں مہم چھیڑدی ہے۔ اس ڈیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راہول گاندھی نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ طویل جواب دیا جس میں ڈیل سے متعلق کئی ایسے انکشافات کئے جن سے صحافی بھی لاعلم تھے۔ ان کے جواب سے کئی سینئر صحافی اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے کانگریس قائدین سے راہول گاندھی کی صلاحیتوں کے بارے میں اعتراف کیا۔ کسی بھی سوال کا جواب راہول گاندھی انتہائی پر اعتماد لہجہ میں دے رہے تھے ۔ ایک قومی چیانل کے نمائندے نے جب 2019 ء میں مرکز میں تشکیل حکومت کے بارے میں سوال کیا تو راہول گاندھی نے چیلنج کے ساتھ کہا کہ 2019 ء میں نریندر مودی دوبارہ وزیراعظم نہیں بن پائیں گے ۔ انہوں نے کانگریس اور حلیف جماعتوں کی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کیا۔ چیانل کے نمائندہ نے جب یو پی اے حکومت کی تشکیل پر شبہات ظاہر کئے تو راہول گاندھی نے فوری آگے بڑھ کر انہیں شرط لگانے کیلئے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو چاہے وہ شرط لگانے کیلئے تیار ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ کانگریس اور اس کے حلیف مرکز میں برسر اقتدار آئیں گے۔ راہول گاندھی کے چیلنج پر قومی چیانل کے نمائندے کسی قدر تذبذب کا شکار ہوگئے اور جب راہول گاندھی نے شرط لگانے کیلئے اصرار کیا تو انہوں نے خواہش کی کہ مجھے شخصی طور پر ایک انٹرویو دینا ہوگا ۔ راہول گاندھی نے اس شرط کو قبول کرلیا ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر کانگریس کے موقف کے بارے میں سوال پر راہول گاندھی نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی ریاست کا مسئلہ ہے، لہذا پردیش کانگریس کے صدر اتم کمار ریڈی اس کا جواب دیں گے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں مسلمانوں کو تعلیم و روزگار میں 4 فیصد تحفظات پر کامیابی سے عمل آوری کی گئی۔ عدالت نے تحفظات کی مجموعی حد 50 فیصد مقرر کی ہے۔ ٹی آر ایس نے 12 فیصد کا نہ صرف وعدہ کیا بلکہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا ۔ ایڈیٹرس کے ساتھ ملاقات پروگرام کی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں تھی۔ ایک صحافی نے موبائیل پر راہول گاندھی کا جواب ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تو راہول گاندھی نے انہیں فوری منع کردیا اور انہیں ریکارڈنگ بند کرنی پڑی۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس شکست سے دوچار ہوگی اور کانگریس کا برسر اقتدار آنا یقینی ہے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی عدم رواداری کا ذکر کیا اور ہجومی تشدد کے واقعات کی مثال دی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور مسلم اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی کو وزیراعظم بننے کیلئے لوک سبھا کی 230 نشستوں کی ضرورت پڑے گی اور یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں سے مفاہمت کے مسئلہ کو پارٹی کی مقامی قیادت پر چھوڑ دیا اور کہا کہ ہم خیال جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔ انہوں نے آندھرا پردیش میں پارٹی کے موقف کے استحکام کی پیش قیاسی کی ۔

TOPPOPULARRECENT