Tuesday , November 20 2018
Home / Top Stories / ۔2019 ء کے انتخابات میں سکیولر پارٹیوں اور فر قہ پرستوں کے درمیان مقابلہ : راہول

۔2019 ء کے انتخابات میں سکیولر پارٹیوں اور فر قہ پرستوں کے درمیان مقابلہ : راہول

کانگر یس کا ساتھ دینے والے سکیولر پارٹیوں کے اتحاد کو اقتدار یقینی ، مودی دوبارہ وزیراعظم نہیں بنیں گے ، ایڈیٹرس سے صدر کانگریس کا تبادلہ خیال

نئی دہلی ۔ /16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہا کہ آئندہ 2019 ء کے انتخابات میں مقابلہ خالص سکیولر پارٹیوں اور فر قہ پرستوں کے درمیان ہوگا ۔ کانگریس کے ساتھ جو بھی ہیں وہ سکیولر ہیں اور بی جے پی کا ساتھ دینے والے فرقہ پرستوں کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں ۔ آج دہلی میں ایڈیٹرس سے مشاورت کے دوران راہول گاندھی نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال ابتر بنادی گئی ہے ۔ خاص کر مودی حکومت کے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی فیصلہ سے عوام کرب کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ عوام کے اس کرب کو محسوس کرنا ہو تو شہر سے نکل کر ملک کے دیہی علاقوں کا دورہ کریں تو یہ اندازہ ہوگا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے دیہی عوام شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ مودی حکومت کو عوام کا یہ کرب نظر نہیں آرہا ہے اور مودی 2019 ء انتخابات کے بعد دوبار ہ اقتدار پر نہیں آئیں گے کیوں کہ انہوں نے اپنی حکومت کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی تھی اور اتنا جھوٹ پھیلایا کہ اس جھوٹ کے سامنے سچ بھی جھوٹ دکھنے لگا ہے لیکن یہ کانگریس ہی ہے جس نے عوام کی آنکھیں کھول دیں اور مودی حکومت کے جھوٹ کو آشکار کیا ۔ آج ملک کا ہر شہری مودی حکومت کے جھوٹ اور سچ میں فرق محسوس کررہا ہے ۔

2014 ء میں بی جے پی نے جھوٹ بول کر ، کانگریس قائدین کی کردار کشی کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا لیکن آج نریندر مودی اس موقف میں نہیں ہیں کہ اپنے جھوٹ کو درست ثابت کرسکیں ۔ راہول گاندھی نے 2019 ء کے انتخابات کی تیاریوں سے متعلق کہا کہ کانگریس نے یہ طئے کرلیا ہے کہ نفرت پھیلانے والی پارٹیوں کو یو پی اے میں شامل نہیں کریں گے ۔ ہم خیال جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔ سابق میں بھی جو ہم خیال جماعتیں سمجھی جاتی تھیں اب وہ بی جے پی کا آلہ کار بن کر ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے خطرہ بن گئی ہے ۔ راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی کے انتخابی وعدوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان چار برسوں میں ملک کے نوجوان روزگار سے محروم ہی رہے ۔ اس لئے میں بھی یہ بات دعویٰ سے کہتا ہوں کہ مودی 2019 ء میں دوبارہ وزیراعظم نہیں بن پائیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ انتخابات میں بی جے پی کو زیادہ نشستیں ملتی ہیں یا کانگر یس کو یہ فیصلہ 2019 ء میں ہوگا ۔ فی الحال بی جے پی کا موقف بہت کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ یو پی میں اب بی جے پی 10 نشستوں سے زیادہ آگے نہیں بڑھے گی ۔ کانگریس کے مہا گٹھ بندھن کے بارے میں راہول گاندھی نے کہا کہ ہمارے ساتھ سماج وادی پارٹی ، آر جے ڈی ، بی ایس پی ، آر ایل ڈی جیسی پارٹیاں ہیں ۔ یو پی میں اس اتحاد کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو درپیش مسائل میں سب سے سلگتا مسئلہ بیروزگاری کا ہے ، اس کو حل کرنے کے لئے 3 چیزوں پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ کانگر یس کو اقتدار ملتا ہے تو اس نے منصوبہ بنایا ہے کہ ملک کے 3 شعبوں زراعت ، چھوٹی اور متوسط صنعتوں اور کنسٹرکشن پر توجہ دے گی ۔ ان تینوں کو فروغ دیتے ہوئے بیروزگاری کا مسئلہ ختم کرے گی ۔ ملک میں زرعی شعبہ کو سب سے زیادہ مستحکم بنایا جائے تو عوام کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہوگا جب غذائی اجناس عوام تک پہونچیں گے ، روزگار بڑھے گا ، ہر شہری کو سرچھپانے کے لئے گھر ملے گا ۔ 56 انچ کا سینہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے مودی اب ملک کو درپیش مسائل پر سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ ان 3 چیزوں کو مودی حکومت فراموش کرچکی ہے ۔ مودی کی توجہ صرف بڑے صنعتکاروں اور دولتمندوں کی طرف ہے ۔ انہوں نے صنعتکاروں کے 15 لاکھ کروڑ روپئے کے قرضے معاف کردیئے ہیں ۔ مودی حکومت میں ہجومی تشدد اور خواتین کی عصمت ریزی کے بڑھتے واقعات پر راہول گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال ہجومی تشدد اور خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات کا اندرون ملک سے زیادہ بین الاقوامی سطح پر تذکرہ ہورہا ہے ۔ عالمی قائدین استفسار کررہے ہیں کہ آخر ہندوستان میں ہجومی تشدد کی وجہ کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے اپنے دور ہ ناروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور ے کے دوران وہاں کی قیادت نے ہندوستان کی ابتر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ہجومی تشدد اور خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات کو موضوع بحث بنایا ۔

TOPPOPULARRECENT