Monday , November 19 2018
Home / سیاسیات / ۔2019 میں بھی متحدہ مقابلہ جے ڈی ایس۔ کانگریس اتحاد کا عہد

۔2019 میں بھی متحدہ مقابلہ جے ڈی ایس۔ کانگریس اتحاد کا عہد

’کرناٹک کے ضمنی انتخابات میں شاندار فتح اتحاد کو عوامی تائید کی توثیق‘
بنگلورو 6 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے ضمنی انتخابات میں اپنی شاندار کامیابی سے حوصلہ پاکر چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی اور کانگریس کے ریاستی صدرنشین گنڈو راؤ نے اس عزم کا اظہار کیاکہ 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات میں بھی وہ بی جے پی کے خلاف متحدہ مقابلہ کریں گے۔ ان دونوں قائدین نے آج کی انتخابی کامیابیوں کو کانگریس ۔ جے ڈی ایس اتحاد کی پالیسیوں کی کامیابی قرار دیا۔ واضح رہے کہ حکمراں اتحاد کو لوک سبھا کی تین کے منجملہ دو اور اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کمارا سوامی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران جنتادل (ایس) اور کانگریس کی مخلوط حکومت کی پالیسیوں کی تائید پر عوام سے اظہار تشکر کیا اور کہاکہ 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات میں یہ دونوں جماعتیں متحدہ طور پر تمام 28 نشستوں پر مقابلہ کریں گی۔ کمارا سوامی نے کہاکہ ’2019 کے لوک سبھا انتخابات کا مشترکہ و متحدہ طور پر مقابلہ کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے اب کیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کی حکمت عملی کو مربوط انداز میں قطعیت دینے کے لئے ہم مل بیٹھیں گے‘‘۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ’ہم مزید عوام دوست اقدامات متعارف کریں گے جو فی الحال عمل آوری کے مرحلے میں ہیں اور عوام کو تاحال ان کے فوائد نہیں پہونچے ہیں‘۔ دنیش گنڈو راؤ نے ایک علیحدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کی شاندار فتح اس بات کا اشارہ ہے کہ کرناٹک کے عوام نے مخلوط حکومت کی پالیسیوں کی توثیق کی ہے۔ دنیش نے مزید کہاکہ ’عوام نے بی جے پی، اس کی انتشار پسند سیاست اور آمرانہ ذہنیت کو مسترد کردیا ہے۔ ہم 2019 ء کے انتخابات میں بھی متحدہ مقابلہ کریں گے‘۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی ایک ذمہ دار اپوزیشن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کرچکی ہے۔ سابق چیف منسٹر سدارامیا نے بیلاری سے اپنے فرزند کی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ عوام نے گالی جناردھن ریڈی کے غیر انسانی رویہ کو بد دعا کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔
جناردھن ریڈی نے کہاکہ بھگوان نے سدارامیا کے ایک بیٹے کو موت دیتے ہوئے ان کی بددعاؤں کو پورا کیا ہے کیوں کہ سدارامیا نے بغیر کسی وجہ کے اُنھیں (جناردھن ریڈی کو) چار سال تک جیل میں ڈال دیا تھا۔ گالی جناردھن پر نہ صرف کانگریس بلکہ چند بی جے پی قائدین نے بھی تنقید کی ہے اور معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT