۔2019 میں ’بی جے پی مکت ‘کی راہ ہموار : اپوزیشن

بیروزگاری کے بحران اور جی ایس ٹی و نوٹ بندی جیسے اقدامات کا اسمبلی انتخابی نتائج پر نمایاں اثر

ممبئی / نئی دہلی ۔11ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پانچ ریاستی اسمبلی چناؤ بالخصوص راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی کارکردگی کو اس کے تکبر اور غرور کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے کہا کہ 2019ء کے عام انتخابات میں این ڈی اے کے چل چلاؤ کا وقت آچکا ہے ۔ ایک اپوزیشن پارٹی نے کہا کہ 2019ء ’’ بی جے پی مکت ‘‘ سال ثابت ہوگا ۔ آج کے اسمبلی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی نے کہا کہ بی جے پی کا اُس کی برسراقتدار ریاستوں میں غرور ٹوٹ چکا ہے ۔ این سی پی کے ترجمان اعلیٰ نواب ملک نے ممبئی میں میڈیا سے بات چیت میں بی جے پی کی شکست کو نریندر مودی حکومت کی عوام دشمن اور کسان دشمن پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو عملاً 5-0کی شکست ہوئی ہے ۔ عوام نے بی جے پی کے قائدین کے غرور و تکر کے خلاف ووٹ ڈالے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ آج کے انتخابی نتائج اس بات کا اشارہ ہے کہ زعفرانی پارٹی کے زوال کی شروعات ہوچکی ہے ۔ عام آدمی پارٹی نے جس وقت اپنا ردعمل ظاہر کیا تب کانگریس راجستھان اور چھتیس گڑھ میں واضح طور پر سبقت حاصل کرچکی تھی اور مدھیہ پردیش میں اپوزیشن پارٹی سخت مقابلہ کررہی تھی ۔ لوک سبھا انتخابات آئندہ سال ہونے والے ہے اور ان اسمبلی چناؤ کو جنرل الیکشن سے قبل سیمی فائنل قرار دیا گیا تھا ۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ 2019ء بی جے پی سے پاک ہندوستان کا سال ہوجائے گا ۔ انتخابی نتائج سے ہی اشارہ ملتا ہے کہ عوام جملہ بازی اور لفاظی سے اکتا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگنا چاہیئے نہ کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر ۔ این سی پی کے نواب ملک نے کہاکہ بیروزگاری کا بحران اور حکومت کے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے اقدامات کا انتخابی نتائج پر اثر پڑا ہے ۔ بی جے پی کو جس طرح اس کی حکمرانی والی ریاستوں میں شکست ہوئی ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ 2019ء کے چناؤ میں بی جے پی کی وداعی ہوجائے گی ۔ مہاراشٹرا کے سابق وزیر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آر ایس ایس نے ان چناؤ میں بی جے پی کی شکست محسوس کرلی تھی اس لئے رام مندر کا تنازعہ اٹھایا گیا ہے ۔ چنانچہ عوام نے یقینی بنایا کہ انتخابات میں بی جے پی کا ’’ رام نام ستیہ ‘‘ ہوجائے ۔ تلنگانہ اور میزورم کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کا کافی ناقص مظاہرہ سامنے آیا ہے ۔اُدھر نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ کسان ، نوجوان ، تاجرین اور خواتین بی جے پی کی سیاست سے خوش نہیں ہے جس کے سبب پارٹی ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ خود اپنی زیراقتدار ریاستوں میں اپنا اثر کھورہی ہے ۔ اسمبلی چناؤ میں عام آدمی پارٹی کے پرفارمنس کے بارے میں سنجے سنگھ نے کہا کہ اُن کی پارٹی نے محدود وسائل اور قیادت کے ساتھ انتخابات لڑے ہیں ۔ یہ ہمارے لئے شروعات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT