Tuesday , November 13 2018
Home / ہندوستان / ۔2020تک دودھ پیداوار میں 32لاکھ ٹن کی کمی کاخدشہ

۔2020تک دودھ پیداوار میں 32لاکھ ٹن کی کمی کاخدشہ

نئی دہلی 14 فروری (سیاست ڈاٹ کام) موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور درجہ حرارت میں اضافہ سے صرف زرعی شعبے پر ہی نہیں بلکہ دودھ دینے والے جانوروں پر بھی اس کے منفی اثرات پڑیں گے جس کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں 2020 تک 32 لاکھ ٹن کی کمی ہونے کا اندازہ ہے ۔سائنسی جائزوں میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں ہو رہے اضافہ کی وجہ سے گائے اور بھینس کے دودھ دینے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا جس سے اگلے دو سال میں دودھ کی پیداوارمیں 32 لاکھ ٹن تک کی کمی آ سکتی ہے ۔ دودھ کی موجودہ قیمت سے یہ نقصان سالانہ 5000 کروڑ روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔ماحول میں آنے والی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کریکٹر ہائبرڈ گایوں پر ہوگا جن میں ‘جرسی’ اور ‘ھالسٹین فزیشین’ شامل ہیں۔ اس کے بعد اس کا اثر بھینس پر ہو گا۔ ماحولیات میں تبدیلی کی وجہ سے جانوروں کا نہ صرف تولیدی عمل متاثر ہوگا بلکہ دودھ کی پیداوار بھی کم ہو جائے گی۔کریکٹر ہائبرڈ گایوں میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے ساتھ ہی بیماریوں کے خلاف قوت مزاحمت بھی کم ہوتی ہے ۔اس سے ان کے سب سے زیادہ متاثرہونے کااندیشہ ہے ۔ ملک میں کریکٹر ہائبرڈ گایوں کی تعداد تقریبا چار کروڑ ہے ۔وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریبا 19 کروڑ گائیں ہیں جن میں سے 20 فیصد غیر ملکی نسل کی جبکہ 80 فیصد دیسی نسل کی گائیں ہیں۔ملک میں مجموعی دودھ کی پیداوار میں غیر ملکی نسل کی گایوں کا حصہ 80 فیصد ہے جبکہ دیسی نسل کی 20 فیصد ہے ۔ حکومت نے 2020-21 تک 27.5 کروڑ ٹن دودھ کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT