Saturday , June 23 2018
Home / کھیل کی خبریں / ۔2026 کا فٹ بال ورلڈ کپ ایشیاء کے باہر کھیلا جائیگا

۔2026 کا فٹ بال ورلڈ کپ ایشیاء کے باہر کھیلا جائیگا

زیورخ۔/31مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے دوبارہ نومنتخبہ صدر سیپ بلاٹر نے جن کا انتخاب متنازعہ حالات میں ہوا آج انہوں نے سوئزر لینڈ کے شہر زیورخ میں فیفا کی اگزیکیٹو کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا کہ 2026 کا فٹ بال ورلڈ کپ ایشیاء کے باہر کھیلا جائے گا۔ اس کا فیصلہ فیفا کے اگزیکیٹو کمیٹی کی میٹنگ میں کیا گیا۔ سی

زیورخ۔/31مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے دوبارہ نومنتخبہ صدر سیپ بلاٹر نے جن کا انتخاب متنازعہ حالات میں ہوا آج انہوں نے سوئزر لینڈ کے شہر زیورخ میں فیفا کی اگزیکیٹو کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا کہ 2026 کا فٹ بال ورلڈ کپ ایشیاء کے باہر کھیلا جائے گا۔ اس کا فیصلہ فیفا کے اگزیکیٹو کمیٹی کی میٹنگ میں کیا گیا۔ سیپ بلاٹر کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد یہ پہلی پریس کانفرنس تھی جو فیفا کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئی تھی۔2022 کا فٹ بال ورلڈ کپ ایشیاء کے چھوٹے ملک قطر میں کھیلا جارہا ہے اس کے بعد دوسرا فٹ بال ورلڈ کپ2026 کا اس خطہ ( ایشیاء ) یا ایشیائی دیگر ممالک میں نہ رکھا جائے۔ اسی دوران مسٹر بلاٹر نے یہ بھی اعلان کیا کہ 2018کا فیفا ورلڈ کپ روس میں منعقد ہوگا،

اس میں 32ٹیمیں حصہ لیں گیاور ہر براعظم کیلئے مختص کی گئی ٹیموں میں کوئی ردوبدل نہیں رہے گا۔ یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ آئندہ ہونے والے دو فٹ بال ورلڈ کپ2018 کا دنیا کے سب سے بڑے ملک ( بہ اعتبار رقبہ ) روس میں ہورہے ہیں اور اس کے بعد 2022کا رقبہ کے اعتبار سے چھوٹے ملک قطر میں ہورہا ہے۔ فیفا جو فٹ بال کی عالمی تنظیم ہے بدعنوانیوں سے دوچار ہے اور دنیا کے کئی ممالک بشمول امریکہ نے اس پر تنقیدیں کی۔ ایسے حالات میں سیپ بلاٹر کا دوبارہ منتخب ہونا فوری طور پر بدعنوانیوں کا سدباب نہیں کرے گا لیکن انہوں نے اس طمانیت کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل قریب میں ان تمام بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی جانچ کرتے ہوئے تمام ارکان کے تعاون سے حالات میں سدھار پیدا کرتے ہوئے کام انجام دیں گے۔ انہوں نے فیفا کے راست طور پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کو خارج از بحث قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر زاویہ سے اس کی جانچ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنہا نہیں بلکہ فیفا کے جمیع ارکان کے ساتھ متحدہ طور پر جدوجہد کریں گے اور اس کے لئے بڑی مسرت ہوئی کہ اب میں دوبارہ صدر منتخب ہوچکا ہوں۔

TOPPOPULARRECENT