Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / ۔21ویں صدی میں ہندوستان کا قائدانہ رول

۔21ویں صدی میں ہندوستان کا قائدانہ رول

ویشنو دیوی یونیورسٹی میں وزیر اعظم کا خطاب
کاٹرا( جموں و کشمیر ) ۔/19اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا ہے کہ 21ویں صدی ہندوستان کی ہوگی جس میں 35سال سے کم عمر کے 800ملین نوجوانان تعلیم اورتعلم سے آراستہ ہوں گے، اور ہر نوجوان کا خواب ترقی کی منفرد کہانی پیش کرے گا۔ شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے پانچویں جلسہ تقسیم اسنادات ( کنوکیشن ) سے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاریہ صدی نالج ( عصری معلومات ) کی ہوگی اور اسی قوم کو غلبہ حاصل ہوگا جس کے پاس عصری معلومات کا خزانہ ہوگا، اور اس خصوص میں ہندوستان ساری دنیا کی رہنمائی کرے گا کیونکہ ہمارے نوجوانوں میں طاقت اور توانائی ہے اور 800ملین نوجوان اپنی ترقی کی ایک نئی داستان رقم کریں گے۔ وزیر اعظم نے طلباء کو یاددہانی کروائی کہ تمہارے والدین نے اپنی خوشیاں قربان کردیں لہذا ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنا بچوں کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قوم ترقی کی بلندیوں کو چھورہی ہے اور اس ملک کا مقدر بھی نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ ہمیں دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے از خود کوئی کارنامہ انجام دیناچاہیئے۔ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی مثال پیش کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ترقی کیلئے صرف سہولیات کافی نہیں ہے جبکہ جذبہ وقف بھی ضروری ہے۔ عبدالکلام جنہوں نے ویشنو دیوی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور مزائیل مین کی حیثیت سے مشہور تھے بچپن میں اخبار فروخت کرکے تعلیم حاصل کی تھی اور بہار کے درشن مانجھی جن کے پاس تعلیم اور سہولیات نہیں تھی لیکن پہاڑ کا سینہ چیر کر سڑک تعمیر کی تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف سہولیات رہنے سے کوئی ترقی حاصل نہیں کرتا بلکہ پختہ عزم اور ارادہ بھی ہونا چاہیئے۔
نریندر مودی ایک نا اہل حکمران
گجرات کے تشدد پر شیوسینا کا ردعمل
ممبئی ۔ 19 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : گجرات اور ملک کے بعض مقامات پر تشدد کے واقعات پر نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حلیف شیوسینا نے آج کہا ہے کہ یہ اشارہ ملتا ہے کہ غیر مستحکم حکمرانی سے عوام دوچار ہیں ۔ جب کہ وزیر اعظم امن کا مکھوٹہ لگا کر ساری دنیا میں گھوم رہے ہیں ۔ پارٹی کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی امن کا مکھوٹہ لگا کر مختلف ممالک کا دورہ کررہے ہیں جب کہ ان کی آبائی گجرات جل رہی ہے ۔ جس کے باعث گجراتی عوام کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے ۔ اگر پولیس ملک کے مختلف علاقوں میں بندوق کے زور پر امن و قانون برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی تو حکومت کی نا اہلی ظاہر ہوجائے گی ۔ شیوسینا نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں نکسلائٹس نے خون خرابہ کا بازار گرم کردیا ہے ۔ جموں و کشمیر میں امن اور حکمرانی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جس پر قوم دشمن عناصر جشن منا رہے ہیں ۔ دوسری طرف بی جے پی کا کہنا ہے کہ جو لوگ حب الوطنی کے نعرے نہیں لگائیں گے انہیں ملک میں رہنے کا حق نہیں ہے ۔ اس کے برخلاف وہ ( بی جے پی ) ایسی حکومت کا حصہ بن گئی ہے جس میں شامل پارٹی قائدین نے ’بھارت ماتا کی جئے ‘ کہنے سے انکار کردیا ہے ۔ شیوسینا نے یہ سوال کیا ہے کہ اگر ہردیک پٹیل کے حامیوں نے ریزرویشن کے نام پر تشدد بھڑکایا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے خلاف بغاوت کا الزام لگا کر جیل بھیج دیا کہاں تک مناسب ہے ؟ پارٹی نے کہا ہے کہ بی جے پی ہائی کمان جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کے لیے پاکستان نواز جماعت سے بات چیت کے لیے آمادہ ہوگئی لیکن گجرات میں اپنے ہی عوام سے مذاکرات کے لیے ’ انانیت ‘ کا مسئلہ بنادیا ۔ جو کہ ایک اہل حکمران ( وزیراعظم ) کو زیب نہیں دیتا ۔ جب کہ نریندر مودی کے حامی نوجوان ہردیک پٹیل کی رہائی کے لیے سڑک پر احتجاج کے لیے نکل آئے ہیں ۔ شیوسینا نے مشورہ دیا کہ ہردیک پٹیل اور کنہیا کمار جیسے لیڈروں نے حکومت کو چیلنج کردیا ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی نے خاموشی اختیار کرلی ہے جب کہ انانیت ترک کر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT