Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ۔26/11 حملہ کیس : ممبئی کی عدالت میں ہیڈلی پر جرح ملتوی

۔26/11 حملہ کیس : ممبئی کی عدالت میں ہیڈلی پر جرح ملتوی

امریکہ سے ویڈیو کانفرنسنگ میں تکنیکی خرابی، سماعت کا آج دوبارہ آغاز
ممبئی ۔ 10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی امریکی دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی پر ممبئی کی ایک عدالت میں گذشتہ تین دن سے جاری جرح آج ایک دن کیلئے ملتوی کردی گئی جب امریکہ سے ویڈیو رابطہ میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ خصوصی سرکاری استغاثہ اجول نکم نے پی ڈی آئی سے کہا کہ ’’ان (امریکہ) کی طرف سے ویڈیو کانفرنس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی جس کے نتیجہ میں آج صبح سے ہم کئی کوششوں کے باوجود رابطہ پیدا نہیں کرسکے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کل یہ جرح جاری رہے گی۔ ابتداء میں عدالتی سماعت ایک گھنٹہ کیلئے ملتوی کردی گئی بعدازاں اجول نکم اور دیگر عہدیداروں نے جج جی اے سناپ کو مطلع کیا کہ اس تکنیکی خرابی کو فوری طور پر درست نہیں کیا جاسکتا۔ بعدازاں عدالت نے استغاثہ کی درخواست کے مطابق سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا۔ قبل ازیں ہیڈلی پر 12 فبروری تک جرح کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ 26/11 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے ضمن میں ہیڈلی پر امریکہ کے ایک نامعلوم مقام سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ممبئی کی عدالت میں گذشتہ دو دن سے ہیڈلی پر جرح کی جارہی تھی جس میں ہیڈلی نے صاف طور پر یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی جاسوس ادارہ آئی ایس آئی پاکستان میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کو فوجی اور اخلاقی امداد فراہم کرتے ہوئے کس طرح مدد و سرپرستی کررہا تھا، اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ 26 نومبر 2008ء کے دہشت گرد حملوں سے کئی سال قبل ممبئی کو نشانہ بنانے کیلئے کس طرح منصوبے بنائے گئے تھے اور یہ کہ لشکرطیبہ نے قبل ازیں ممبئی کی تاج محل ہوٹل میں منعقدہ ہندوستانی دفاعی سائنسدانوں کی کانفرنس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اس مقصد کیلئے اس ہوٹل کا ایک فرضی نمونہ بھی تیار کیا گیا تھا لیکن نقل و حرکت و دیگر منطقی وجوہات کی بناء پر سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ترک کردیا گیا تھا۔ ان وجوہات میں حملہ آوروں اور اسلحہ کی غیرقانونی منتقلی میں دشواری اور کانفرنس کی تفصیلات کے بارے میں معلومات کا فقدان بھی شامل تھا۔ سدی ونائک مندر کو نشانہ بنانے کے منصوبہ کے بارے میں ہیڈلی نے عدالت سے کہا تھا کہ سجاد میر (لشکرطیبہ میں ہیڈلی کے رابطہ کار) نے اس مندر کا ویڈیو بنانے کی اس کو واضح ہدایت کی تھی۔ ہیڈلی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ آئی ایس آئی کے لئے بھی کام کیا کرتا تھا اور پاکستانی فوج کے کئی عہدیداروں سے ملاقات کرچکا ہے۔ اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ لشکرطیبہ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر امتناع عائد کئے جانے کے خلاف حکومت امریکہ کو عدالت میں گھسیٹنے کیلئے لشکرطیبہ کے بانی حافظ سعید اور آپریشنل کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کو تجویز پیش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT