Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / ۔29 اشیاء، 54 سرویسیس پر جی ایس ٹی شرح میں کٹوتی

۔29 اشیاء، 54 سرویسیس پر جی ایس ٹی شرح میں کٹوتی

l نئی ٹیکس شرحوں پر 25 جنوری سے عمل آوری
l ریٹرن کاادخال اب آسان تر ، جی ایس ٹی کونسل کا اقدام

نئی دہلی ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تمام تر اختیارات کی حامل جی ایس ٹی کونسل نے آج 29 اشیاء بشمول استعمال شدہ گاڑیوں، کنفکشنری اور بائیو ڈیزل پر ٹیکس شرح میں کٹوتی کردی جبکہ تجارتی اداروں کیلئے ریٹرن داخل کرنے کا عمل زیادہ آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیز 54 زمروں کی خدمات بشمول بعض جاب ورکس، ٹیلرنگ سرویسیس اور تھیم پارکس میں داخلہ پر بھی ٹیکس شرح میں کمی لائی گئی ہے۔ یہ پیانل اپنی اگلی میٹنگ میں پٹرولیم اور ریئل اسٹیٹ جیسے ایٹمس کو بھی گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تحت لانے پر غور کرسکتا ہے، جو موجودہ طور پر نئے سسٹم سے باہر ہیں، وزیرفینانس ارون جیٹلی نے یہ بات کہی۔ کونسل نے استعمال شدہ اوسط اور بڑی کاروں اور ایس یو وی گاڑیوں پر جی ایس ٹی شرح کو 28 فیصد سے گھٹاتے ہوئے 18 فیصد مقرر کیا ہے اور دیگر پرانی اور مستعملہ موٹر گاڑیوں کو 12 فیصد کے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ ہیروں اور قیمتی پتھروں پر ٹیکس کو موجودہ 3 فیصد سے گھٹا کر 0.25 فیصد کیا گیا ہے۔ جہاں بائیو ڈیزل کیلئے ٹیکس شرح کو 18 فیصد سے گھٹا کر 12 فیصد کیا گیا، وہیں ماحولیات کیلئے سازگار بائیو فیول پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کیلئے یہی شرح گھٹا کر 18 فیصد کردی گئی جو قبل ازیں 28 فیصد تھی۔ آبپاشی کیلئے استعمال ہونے والے سامان، کنفکشنری، 20 لیٹر کے بوتلوں میں دستیاب پینے کا پانی، فرٹیلائزر گریڈ فاسفورک ایسڈ، مہندی کے کون، پرائیویٹ ڈسٹری بیوٹرس کی جانب سے سربراہ کی جانے والی ایل پی جی اور بعض دیگر اشیاء پر بھی ٹیکس میں کٹوتی کی گئی ہے۔ نئی شرحیں 25 جنوری سے نافذالعمل ہوں گی۔ ذرائع نے کہا کہ 29 اشیاء اور 54 خدمات پر ٹیکس شرح میں کٹوتی کے نتیجہ میں لگ بھگ 1000 کروڑ روپئے کی آمدنی کا نقصان ہوگا۔ کونسل نے آج اپنی 25 ویں میٹنگ میں اس مسئلہ پر بھی غوروخوض کیا کہ ریٹرن فائلنگ کو کس طرح آسان تر بنایا جائے۔ چنانچہ ہر ماہ صرف ایک ریٹرن داخل کرنا ہوگا۔ انفوسیس کے نان ایگزیکیٹیو چیرمین نندن نیلیکانی نے ریٹرن فائلنگ کے عمل کو زیادہ آسان بنانے کے بارے میں خاکہ پیش کیا۔ کونسل نے صرف GSTR-3B یا سیلز کا ابتدائی بہی کھاتہ کو اپنے پاس رکھنے اور ساتھ ہی فروخت کنندگان کو اپنے بل لازمی طور پر اپ لوڈ کردینے کے امکان پر غور کیا۔ جیٹلی نے کہا کہ GSTR-3B اور بلوں کی ٹیکس آفیسر جانچ کرسکتے ہیں اور کچھ فرق پائے جانے کی صورت میں متعلقہ تاجرین سے کسی متعاقب مرحلہ پر وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا صرف ایک ریٹرن داخل کرنا ہی کافی ہے، انہوں نے کہا کہ فی الحال یہی مناسب طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ تجارتی و کاروباری اداروں کو موجودہ طور پر GSTR-3B کے ساتھ ساتھ GSTR-1 بھی داخل کرنا ہے، جو جملہ فروخت کے اعتبار سے قطعی بل ہے۔ جی ایس ٹی کی آمدنی میں کمی کے پیش نظر کونسل نے جس کی صدارت جیٹلی کررہے ہیں اور جس میں ان کے ریاستی ہم منصب وزراء شامل ہیں ، آج نئے بالواسطہ ٹیکس سسٹم میں وصولیات کا جائزہ بھی لیا۔ جیٹلی نے کہا کہ ابھی تک حکومت کاروباری اداروں کی جانب سے پیش کردہ یکطرفہ اعلامیہ پر انحصار کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT