Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ۔30سال بعد مسلم نوجوان کی ماں اور بہن سے ملاقات

۔30سال بعد مسلم نوجوان کی ماں اور بہن سے ملاقات

ممبئی۔/14اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) احمد نگر میں ایک غیر سرکاری تنظیم CORO سے وابستہ پروگرام کو آرڈینیٹر ممتاز شیخ کو ٹیلی فون پر اطلاع ملنے پر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ان کا بھائی رفیق 29سال بعد ملاقات کیلئے واشی ناکہ چمبور میں واقع ان کے مکان آرہا ہے جبکہ دونوں بھائی اور بہن 30سال قبل جدا ہوگئے تھے۔بی بی سی نے گزشتہ سال دنیا بھر سے بااثر 100 خواتین کا انتخاب کیا تھا جس میں ممتاز شیخ بھی شامل تھیں ، یہ مہم ان کی والدہ مدینہ نے ٹیلی فون پر اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کی اطلاع دی تو ممتاز شیخ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہوگئے اور والدہ سے پوچھا کہ کس طرح اپنے بیٹے کی تصدیق کرسکتی ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ اپنے فرزند کی شناخت اس کے سر پر آپریشن کے نشان سے کرسکتی ہیں کیونکہ 8ماہ کی عمر میں ہی رفیق کے دماغ کا آپریشن کیا گیا تھا۔ ممتازکے والدین نے 1978 میں شادی کی تھی۔ ان کے والد ابوبکر ملیالی اور والدہ مراہٹی بات کرتے تھے ۔ 1983 میں بچہ پیدا ہونے کے بعد چمبور منتقل ہوگئے لیکن ممتاز کے والد اپنے 8سالہ لڑکے رفیق کو کیرالا میں اپنے والدین کے پاس چھوڑ کر دوبئی روانہ ہوئے۔ بعد ازاں ابوکر نے دوسری شادی کرلی لیکن ممتاز اپنے بھائی کو دیکھنے سے قاصر رہی کیونکہ وہ ملیالی بات کرسکتی تھی نہ سمجھ سکتی تھی۔ محمد رفیق کا بھی یہی حال تھا جس نے اپنی والدہ اور بہن کی تلاش شروع کردی۔ جس کے دوران ان کی ایک پڑوسی خاتون سے ملاقات ہوئی جو کہ ان کیلئے ایک فرشتہ ثابت ہوئی۔ یہ خاتون گلف میں کام کرتی تھی اور رفیق نے بھی کوویت میں ملازمت حاصل کرلی تھی اور اس خاتون کی رہنمائی میں رفیق نے اس علاقہ میں چھان ماری جہاں پر 1980 کے عشرہ میں رفیق کا خاندان مقیم تھا۔ بالآخر اس کی ماں کا پتہ ڈھونڈ نکالا۔ رفیق نے کہا کہ یہ خاتون ہماری کہانی میں ایک سی آئی ڈی آفیسر کی طرح ہے اور ممکن ہے کہ ایک نہ ایک دن ان کی اس کہانی پر فلم بنائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT