Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ۔30 لاکھ سے زائد مالیتی جائیداد مالکین کے ٹیکس ادائیگی ، پونجی اور ریٹرنس کا جائزہ لینے کی تجویز

۔30 لاکھ سے زائد مالیتی جائیداد مالکین کے ٹیکس ادائیگی ، پونجی اور ریٹرنس کا جائزہ لینے کی تجویز

بے نامی قانون سازی کیساتھ ہی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کا آغاز، آمدنی کے مطابق ٹیکس وصولی پر غور
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) محکمہ انکم ٹیکس نے 30 لاکھ سے زائد مالیتی جائیدادوں کے مالکین کے ٹیکس ادائیگی اور ان کی جمع پونجی کے علاوہ ریٹرنس کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ’’بے نامی‘‘ جائیدادوں سے متعلق قانون کے روشناس کروائے جانے کے بعد سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسس نے ملک بھر میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کی شروعات کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ 30 لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیداد کے مالکین کی آمدنی اور ان کی جانب سے اداکئے جانے والے ٹیکس کی تفصیلات اکٹھا کی جائیں گی۔ گذشتہ یوم اس انکشاف کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے 30 لاکھ سے زائد مالیت کی رجسٹری والی جائیدادوں کے مالکین کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکس کی تفصیل کے علاوہ آمدنی کے ذرائع اور ٹیکس سے بچنے کیلئے کئے جانے والے تمام اقدامات کا جائزہ لینے کی چھوٹ فراہم کردی ہے اور سی بی ڈی ٹی کی جانب سے ان تمام ریکارڈس کو یکجاکرتے ہوئے جائزہ لیا جارہا ہے جو 30 لاکھ سے زائد مالیت کی ہیں۔ مرکزی حکومت نے سال گذشتہ کرنسی تنسیخ کے بعد اس بات کا اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے کالے دھن کو باہر لانے کیلئے سخت گیر اقدامات کئے جائیں گے اور کرنسی تنسیخ کا مسئلہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے لیکن کرنسی تنسیخ کے معاملہ میں ناکامی کے بعد حکومت کی جانب سے بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے علاوہ ان جائیدادوں کے مالکین تک رسائی حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جانے لگی تھی لیکن اب جو اطلاعات منظر عام پر آرہی ہیںجو تشویش کا باعث ہیں کیونکہ حکومت کے محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے اگر 30لاکھ سے زائد مالیت کی رجسٹری والی جائیدادوں کے مالکین کی آمدنی کا جائزہ لینے اور ٹیکس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے فیصلہ سے 30لاکھ سے زائد کی جائیداد رکھنے والوں کو بھی اپنی آمدنی اور ذرائع آمدنی کی تفصیلات فراہم کرنی پڑ سکتی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسس کو اس سلسلہ میں راہ تلاش کرنے اور جائیدادوں میں کی گئی بے نامی سرمایہ کاری کی تفصیلات جمع کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت جاری کی تھی اور ان ہدایات کے بعد سی بی ڈی ٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 30 لاکھ سے زیادہ ملکیت والی جائیدادوں کے مالکین کی تفصیلات اوران کی آمدنی اور ٹیکس ادائیگی کے تفصیل حاصل کی جائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے بے نامی جائیدادوں کے معاملہ میں محتاط طرز عمل اختیار کرنے اور زیادہ سے زیادہ تعداد کو ٹیکس کے زمرہ میں شامل کرنے کے اقدامات پر زور دینے کی تاکید کی ہے تاکہ آمدنی کے مطابق ان سے ٹیکس وصول کیا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT