Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / ۔50 روزہ اسمبلی اجلاس یا انتخابی مہم کا پلیٹ فارم؟

۔50 روزہ اسمبلی اجلاس یا انتخابی مہم کا پلیٹ فارم؟

چیف منسٹر وسط مدتی انتخابات کے موڈ میں، اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر طویل سیشن، ٹی آر ایس ارکان بھی حیرت زدہ
حیدرآباد۔26 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا سرمائی اجلاس کہیں برسر اقتدار ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کا حصہ تو نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو سیاسی حلقوں حتی کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس قائدین کے ذہنوں میں ابھر رہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے آج بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں 50 دن پر مشتمل اجلاس کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ برسر اقتدار پارٹی، وزراء اور وہپس کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ چیف منسٹر پوری تیاری کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوئے ہیں تاکہ اپوزیشن کو حاوی ہونے کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔ عام طور پر سرمائی اور مانسون اجلاس 10 تا 15 دن پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ روایت متحدہ آندھراپردیش سے چلی آرہی ہے۔ تلنگانہ تشکیل کے بعد کے سی آر نے اسی روایت کو برقرار رکھا تھا لیکن کل سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس کے لیے 50 دن کا اعلان کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کی قیاس آرائیوں کو تقویت پہنچادی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسمبلی کے 50 دن حکومت اسے انتخابی تشہیر کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے گی۔ حکومت کی جانب سے شروع کردہ اسکیمات اور دیگر اقدامات پر روزانہ چیف منسٹر، وزراء اور ارکان اسمبلی کی تقاریر ہوں گی تاکہ عوام میں ٹی آر ایس کے حق میں پیام پہنچایا جاسکے۔

جیسے ہی چیف منسٹر نے 50 دن کی تجویز پیش کی کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن قائدین حیرت میں پڑھ گئے۔ وزیر امور مقننہ ہریش رائو نے کل اعلان کیا تھا کہ حکومت تین تا چار ہفتے سیشن کے انعقاد کی تجویز رکھتی ہے لیکن چیف منسٹر نے 50 دن کا اعلان کرتے ہوئے بجٹ سیشن کے ایام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن عام طور پر 40 دن پر مشتمل ہوتا ہے اور ان 40 دنوں میں ارکان مقننہ کی تعداد بتدریج گھٹنے لگتی ہے۔ عوامی نمائندوں کو اس قدر طویل عرصے تک اپنے حلقے جات سے دور رہنے کی صورت میں دشواری ہوسکتی ہے لہٰذا وہ نہیں چاہتے کہ اسمبلی کا اجلاس طویل مدت کے لیے ہو۔ سرمائی اور مانسون سیشن میں ایام کار بمشکل 10 تا 15 دن کے ہوتے ہیں جس کے بعد ارکان مقننہ اپنے حلقہ جات میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مانسون سیشن کے لیے 50 دن مقرر کیے گئے۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں عام طور پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ایام میں توسیع کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن اس مرتبہ چیف منسٹر نے اس طرح کے مطالبہ کا کوئی موقع ہی نہیں دیا۔ برخلاف اس کے اپوزیشن اور برسر اقتدار پارٹی کے ارکان مقننہ طویل اجلاس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔

چیف منسٹر سے قربت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے سی آر نے منظم حکمت عملی کے تحت ہی یہ فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کا مقصد عوامی مسائل پر سیرحاصل بحث کو یقینی بنانا ہے۔ عام طور پر اپوزیشن کی شکایت رہتی ہے کہ حکومت نے عوامی مسائل پر اسمبلی سے راہ فرار اختیار کی لیکن چیف منسٹر نے سیاسی تدبر اور اپوزیشن کو دفاعی موقف میں ڈالنے کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے پہلے ہی 50 دن کی تجویز رکھ دی۔ لہٰذا اب ایام کار زیادہ اور مسائل کم ہوجائیں گے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر بنیادی سطح پر حکومت کے خلاف بڑھتی ناراضگی سے فکرمند ہیں اور وہ 2019ء تک انتظار کیے بغیر 2018ء میں ہی اسمبلی انتخابات کے حق میں ہے تاکہ اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو مضبوط ہونے کا موقع ناملے۔ اطلاعات کے مطابق طویل سرمائی سیشن کے بعد فروری میں بجٹ اجلاس منعقد ہوگا جو ممکن ہے کہ جاریہ میعاد کا آخری اجلاس ثابت ہوگا جس کے بعد جون تک مختلف اضلاع کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے چیف منسٹر وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے اس منصوبے کو عوامی نمائندوں سے راز میں رکھا ہے اور سوائے چند ایک مشیروں کے اس منصوبے سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT