Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔50,000 مسلم خاندانوں میں خوشحالی کیلئے تحفظات ضروری

۔50,000 مسلم خاندانوں میں خوشحالی کیلئے تحفظات ضروری

مسلم عوامی نمائندوںکو جگانے کی ضرورت، ٹی آر ایس قائدین عہدوں کے بجائے تحفظات کی فکر کریں، تحریک میں شدت وقت کی اہم ضرورت

حیدرآباد۔ 11۔ مئی  ( سیاست نیوز) حقوق حاصل کرنے کیلئے بسا اوقات مانگنے کے بجائے چھیننا پڑتا ہے۔ ملک میں بدلتی جمہوری اقدار کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حکومتوں کو اپنے حقوق کی ادائیگی کیلئے مجبور کرنے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ وہ زمانہ اب نہیں رہا جب خود حکمرانوںکو عوامی مسائل  اور ضروریات کا ادراک ہوتا تھا اور وہ مطالبہ سے قبل ہی مسائل کی یکسوئی کرتے رہے۔ اب تو حقوق حاصل کرنے کیلئے جمہوری انداز میں احتجاج اور تحریک چلانا جمہوریت کا حصہ بن چکا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں ملک کے بعض حصوں میں مختلف طبقات میں احتجاج اور تحریک کے ذریعہ حکومتوں کو مطالبات قبول کرنے پر مجبورکیا۔ خاص طور پر گجرات اور ہریانہ کی مثالیں سامنے ہیں، جہاں اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والوں نے حکومت کو تحفظات کی فراہمی پر مجبور کردیا ۔ متحدہ آندھراپردیش میں مسلم اقلیت کے ساتھ کی گئی ناانصافی ہر کسی بھی عیاں ہیں۔

ہر شعبہ میں مسلم اقلیت کو نہ صرف نظرانداز کردیا گیا بلکہ منصوبہ بند انداز میں ملازمتوں اور تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ 60 برسوں کی ناانصافیوں کا نتیجہ ہے کہ آج سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا فیصد برائے نام ہوکر رہ گیا ہے۔ حکومتوں نے ہمیشہ اقلیتوں کے ساتھ خوش کن وعدوں سے کام لیا۔ مسلمانوںکی پسماندگی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو اس کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں کے عوامی نمائندے اور سیاسی قائدین ذمہ دار دکھائی دیں گے جنہوں نے ہمیشہ اپنے نجی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان دن بدن ہر شعبہ میں پسماندہ ہوگئے ۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے جس انداز میں مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا، امید جاگی تھی کہ حکومت پسماندگی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے۔ حکومت کے دو سال مکمل ہوگئے لیکن مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ کی سمت ایک بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان محض ایک کھلونا بن چکا ہے جس سے مسلمانوں کو بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت کے قیام کے چار ماہ میں تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا گیا لیکن سدھیر کمیشن آف انکوائری کے قیام کے ذریعہ مسئلہ کو طول دیدیا گیا۔

چندر شیکھر راؤ اگر یہ تصور کرتے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ ان کا ووٹ بینک برقرار رہیں گے تو یہ ان کی بھول ہوگی۔ مسلمان بھلے ہی اقلیت میں ہوں لیکن تلنگانہ میں ان کا موقف بادشاہ گر کا ہے اور وہ جسے چاہیں اقتدار کی کرسی تک پہنچا سکتے ہیں۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے لئے عوام میں شعور بیداری کی روزنامہ سیاست کی مہم کے اثرات ہر ضلع میں دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام کی جانب سے عہدیداروں اور حکومت کے ذمہ داروں کو نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اس جمہوری تحریک کے لائحہ عمل میں تبدیلی کی جائے۔ اگر مسلمان تحفظات کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کرلیں گے تو پھر آنے والے دور میں تحفظات کا حصول ناممکن ہوجائے گا ۔ تلنگانہ میں 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری سے سرکاری ملازمتوں میں 25000 سے زائد مسلمانوںکو نمائندگی حاصل ہوسکتی ہے ۔ آئندہ دو برسوں میں مخلوعہ جائیدادوں کے اعتبار سے ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا کے سی آر نے وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح پیشہ ورانہ کورسس میں مسلم طلبہ کیلئے 20,000 سے زائد نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔ میڈیسن اور انجنیئرنگ کے علاوہ ایم بی اے اور ایم سی اے جیسے کورسس میں مسلم طلبہ کو تحفظات کے ذریعہ نشستیں حاصل ہوں گی۔ اس طرح ریاست میں مجموعی طور پر 50,000 مسلم خاندانوں میں تحفظات کے سبب خوشحالی آسکتی ہے اور روزگار اور تعلیم میں آبادی کے اعتبار سے نمائندگی حاصل ہوگی۔سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ابتدائی سروے کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں گزیٹیڈ رتبہ سے اوپر کے عہدوں پر مسلم نمائندگی صفر کے برابر ہے جبکہ نچلے درجہ میں مسلم نمائندگی دو فیصد کے قریب ہے۔ اگر مسلمان ابھی بھی خواب  غفلت کا شکار رہیں تو خوشحالی کے بجائے تاریکی ان کا مقدر بن جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے حق کیلئے آواز بلند کرے اور متحدہ جدوجہد کیلئے تیار ہوجائے۔ مسلم عوامی نمائندوں اور سیاسی قائدین کو بھی اس تحریک سے وابستہ کرنے کیلئے ان پر دباؤ بنانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT