Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / ۔52 سال میں مسلمانوں کو کیا ملا اور قائدین کو کیا!

۔52 سال میں مسلمانوں کو کیا ملا اور قائدین کو کیا!

محمد علی شبیر کا مسلمانوں سے سوال۔ خواجہ بلال کی کانگریس میں شمولیت
حیدرآباد 2 جنوری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہاکہ ووٹ کٹوا جماعت فرقہ پرستوں سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے مسلمانوں کے سروں کا سودا کررہی ہے۔ خواجہ بلال اور مجلس کے سینکڑوں حامیوں کی کانگریس میں شمولیت کے بعد خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہاکہ پرانے شہر پر ایک جماعت کا گزشتہ 52 سال سے قبضہ ہے۔ مقامی جماعت اور پرانے شہر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جماعت کے قائدین عروج پر پہونچ گئے ہیں جبکہ پرانا شہر جوں کا توں پسماندہ ہے۔ جماعت کے صدر 25 ہزار گز پر محیط محل بناکر رہ رہے ہیں جبکہ غریب عوام کو 200 فیٹ کا بھی کمرہ میسر نہیں ہے۔ ووٹ کٹوا جماعت مودی کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ پرانے شہر کے غریب مسلم لڑکیوں کی زبردستی عرب باشندوں سے شادی رچائی جارہی ہے۔ صدر جماعت کی غیرت کہاں گئی کیوں وہ غریب مسلم لڑکیوں کی عصمت کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئے وہ خود اس کا محاسبہ کریں۔ کانگریس کی جانب سے فراہم کئے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ جماعت کا جو میڈیکل کالج قائم ہوا ہے وہ بھی اندرا گاندھی کی مرہون منت ہے جبکہ کانگریس نے مزید 6 میڈیکل کالجس قائم کرتے ہوئے اقلیتوں کو بہت بڑا تحفہ فراہم کیا ہے۔ پرانے شہر کے عوام آج بھی پسماندہ ہے اور چھوٹے چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پرانے شہر کے عوام جن پر بھروسہ کرتے ہیں وہی ان کے سروں کا سودا کرتے ہیں۔ فرقہ پرستوں سے صرف کانگریس پارٹی ہی مقابلہ کرسکتی ہے۔ نوجوان قائد کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی صدارت میں کانگریس پارٹی مرکز اور تلنگانہ میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ کانگریس پارٹی ہی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی جماعت ہے۔ مختلف ریاستوں میں سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے والی ووٹ کٹوا جماعت اب کرناٹک میں سرگرم ہوکر دوبارہ فرقہ پرستوں کے لئے ماحول سازگار بنانے کی سازش کررہی ہے۔ اس ناپاک سازش کو کانگریس کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ مجلس سے کانگریس میں شامل ہونے والے سابق کارپوریٹر خواجہ بلال نے کہاکہ انھوں نے حکومت کا تختہ اُلٹنے یا جماعت کی صدارت چھین لینے کیلئے ریالی منظم نہیں کررہے تھے بلکہ سیکولرازم کو استحکام کرنے اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے اپنی قیامگاہ سے گاندھی بھون تک ریالی منظم کرنا چاہتے تھے مگر پولیس نے انھیں اس کی اجازت نہیں دی۔ میری قیامگاہ کے اطراف 144 سیکشن نافذ کردیا گیا اور میرے حامیوں کے خلاف لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس سے وہ اور ان کے حامی ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہے۔ بلکہ ان کے خلاف ظلم کرنے والوں کے خلاف وہ علم بغاوت کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ 2 سال قبل مجلس کے سابق کارپوریٹر محمد غوث نے بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان کے خلاف بھی ظلم و زیادتی کی جارہی ہے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کئے جارہے ہیں وہ بھی ان سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہم سب ملکر پرانے شہر میں کانگریس کو مستحکم کریں گے۔ خواجہ بلال نے کہاکہ مقامی جماعت کے کئی کارپوریٹرس اور سابق کارپوریٹرس صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی سے رابطے میں ہیں اور وہ سب جلد سے جلد کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ پرانے شہر میں اب مقامی جماعت سے سب کو ڈر لگنے لگا ہے۔ مختلف ریاستوں کے انتخابات میں جماعت کی حکمت عملی فرقہ پرستوں کو فائدہ بخش ثابت ہوئی ہے۔ جس پر انھیں سخت اعتراض تھا۔ سیکولرازم کے تحفظ اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن کا تحفظ کرنے کے لئے وہ سیکولر نظریات رکھنے والی کانگریس پارٹی میں شامل ہورہے ہیں وہ کسی عہدے یا ٹکٹ کے لالچ میں نہیں بلکہ سیکولرازم کا تحفظ چاہتے ہیں۔ کانگریس پارٹی پرانے شہر سے جس کسی کو بھی ٹکٹ دے گی وہ اس کامیابی کے لئے کام کریں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT