Monday , December 18 2017
Home / دنیا / ۔600 برطانوی شہریوں کو آئی ایس میں شمولیت سے روکا گیا

۔600 برطانوی شہریوں کو آئی ایس میں شمولیت سے روکا گیا

وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا ادعا ۔ ترکی میں بیشتر گرفتاریاں ‘ ترک حکام کی ستائش
لندن 16 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانیہ میں سال 2012 سے جملہ 600 برطانوی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپس میں شمولیت اختیار کرنے شام میں داخل ہونا چاہتے تھے ۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے یہ بات بتائی ۔ جنوبی ترکی کے اپنے ایک دورہ کے موقع پر ہیمنڈ نے ان امکانی دہشت گردوں کو ان کے مطلوبہ مقام تک پہونچنے سے روکنے میں دونوں ملکوں کے مابین تعاون و اشتراک کی ستائش کی ہے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے جملہ 600 برطانوی شہریوں کو روکا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ ترکی بیرونی لڑاکا افراد کے بہاؤ کو روکنے کے کام میں اہم شراکت دار ثابت ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد کو اسی وقت روکا گیا تھا جب وہ برطانیہ کی سرحد سے باہر نکلنا چاہتے تھے اور کچھ افراد کو استنبول میں آمد پر روکا گیا یا پھر کچھ افراد کو ان کے راستہ میں اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر روکا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ افراد کو ترک حکام نے مختلف مقامات پر گرفتار کیا ہے جس کیلئے برطانیہ کی جانب سے انٹلی جنس اطلاعات فراہم کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ترکی نے مختصر نوٹس پر ملنے والی اطلاعات میں بہت موثر اور اہم کارروائی کی ہے ۔ روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف کے بموجب کچھ افراد کو ترک ائرپورٹس پر آمد کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ متعلقہ حکام کو قبل از وقت اطلاع دی گئی تھی جب ان افراد کے طیارے سفر میں تھے ۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد کو ترک حکام نے برطانوی حکام کی جانب سے اطلاعات ملنے کے اندرون 45 منٹ گرفتار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2012 کے بعد سے کم از کم 1,400 برطانوی شہریوں نے شام کا سفر کرنے کا قصد کیا تھا جن میں کم از کم 40 فیصد کو روکا گیا ہے ۔ جن افراد کو ترکی نے گرفتار کیا ہے انہیں یا تو برطانیہ واپس بھیج دیا گیا ہے یا پھر شام کی سرحد میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں محروس رکھا گیا ہے ۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ایکترجمان نے کہا کہ ان اعداد و شمار میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں ترکی اور برطانیہ دونوں نے گرفتار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن افرادکو ترک حکام نے گرفتار کیا ہے ان میں کچھ افراد کو برطانیہ واپس بھیج دیا جائیگا جہاں ہوم آفس کی جانب سے مقدمات درج کئے جائیں گے جبکہ کچھ افراد کو ترکی میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

TOPPOPULARRECENT