Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ۔7 ریاستوں کے 9 اسمبلی حلقوں میں رائے دہی، مدھیہ پردیش میں تشدد

۔7 ریاستوں کے 9 اسمبلی حلقوں میں رائے دہی، مدھیہ پردیش میں تشدد

راجستھان میں سب سے زیادہ 80 فیصد رائے دہی

نئی دہلی ۔ /9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی 7 ریاستوں میں 9 اسمبلی حلقوں کیلئے آج ضمنی انتخابات منعقد کئے گئے ۔ مدھیہ پردیش میں فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے جبکہ یہاں پر دیگر علاقوں میں رائے دہی پرامن رہی ۔ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں دو اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے جبکہ مغربی بنگال ، آسام ، راجستھان ، ہماچل پردیش اور دہلی میں ایک ایک اسمبلی حلقہ کیلئے رائے دہی ہوئی ۔ مدھیہ پردیش کے اٹر اسمبلی حلقہ میں ضمنی انتخابات کے دوران کانگریس اور بی جے پی ورکرس کے تصادم کے بعد فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں ۔ دواخانہ کے ذرائع نے بتایا کہ تصادم اور فائرنگ میں 6 افراد زخمی ہوئے ان میں سے 5 کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کیا گیا ۔ ایک شخص کو گوالیار کے دواخانے میں شریک کیا گیا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے انتخابی عہدیداروں نے تاہم بوتھ پر قبضوں کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ تشدد کے واقعات کے بعد بوتھس پر سکیورٹی بڑھادی گئی تھی ۔ راجستھان کے ڈھول پور اسمبلی حلقہ میں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے شام 6 بجے تک تقریباً 80 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ۔ بی جے پی حکمرانی والی ریاست آسام کے دھیمالی حلقہ میں 66.97 فیصد رائے دہی ہوئی ۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی کے راجوری گارڈن اسمبلی حلقہ کیلئے رائے دہی آج جاری رہی۔ عام آدمی پارٹی کے جرنیل سنگھ کے استعفیٰ کی وجہ سے یہ نشست مخلوعہ تھی۔ جرنیل سنگھ نے پنجاب اسمبلی انتخابات میں شرومنی اکالی دل کے پرکاش سنگھ بادل سے مقابلے کیلئے اس نشست سے استعفیٰ دیا تھا۔ آسام میں اسمبلی حلقہ بھیما جی میں آج ایک بجے دن تک 43.5% رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ بعض پولنگ بوتھس پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں تیکنیکی خرابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور 8 الیکٹرانک ووٹنگ مشینس کے علاوہ 28 وی وی پی اے ٹی مشینوں کو فوری تبدیل کردیا گیا۔ کرناٹک میں دو اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں آج 2.30 بجے دن تک تقریباً 45% رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ ننجنا گڈ اور گنڈلو پیٹھ میں بالترتیب 12 اور 9 امیدوار انتخابی مقابلے میں شریک ہیں۔ گنڈلو پیٹھ میں وزیر امدادِ باہمی مہادیوا پرساد کی موت اور ننجنا گڈ میں کانگریس رکن اسمبلی وی سرینواس کے استعفیٰ کی وجہ سے رائے دہی ناگزیر ہوگئی تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT