Sunday , November 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / ۔9 بینکس خطرہ میں ؟ مستقبل کی حکمت عملی جاری ہے

۔9 بینکس خطرہ میں ؟ مستقبل کی حکمت عملی جاری ہے

حیدرآباد۔19جولائی (سیاست نیوز) حکومت ہند نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ قومی سطح پر 9ایسے بینک ہیں جو خسارہ میں چل رہے ہیں۔راجیہ سبھا میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی مملکتی وزیر فینانس مسٹر سنتوش کمار گنگوار نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ 2016-17 کے دوران آئی ڈی بی آئی نے 5158کروڑ کا خسارہ پیش کیا تھا لیکن اور سال گذشتہ بھی اس بینک نے خسارہ دکھا یا تھا ۔ اسی طرح انڈین اوورسیز بینک کی جانب سے بھی سال گذشتہ 3ہزار 147کروڑ کا خسارہ پیش کیا گیا تھا جس کے سبب بینک مشکل حالات سے دوچار تھے۔ راجیہ سبھا میں ارکان کی جانب سے کئے گئے سوال میں حکومت سے اس بات کا استفسار کیا گیا تھا کہ حکومت کی راست نگرانی میں چلائے جانے والے بینکوں کی معاشی حالت کیا ہے ؟ کیا واقعی بینک خسارے میں ہیں اور ان کی حالت میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو حکومت کی جانب سے ان بینکوں کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ارکان کے اس سوال کا مرکزی مملکتی وزیر فینانس مسٹر گنگوار نے تحریری جواب ارسال کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ قومی سطح پر 9ایسے بینک ہیں جو خسارے میں چلائے جا رہے ہیںجن میں آئی ڈی بی آئی ‘ الہ آباد بینک‘ بینک آف انڈیا ‘ بینک آف مہاراشٹرا‘ سنٹرل بینک آف انڈیا ‘ دینا بینک ‘ اورینٹل بینک‘ UCOبینک شامل ہیں جو خسارہ میں ہیں۔ انہوں نے ان بینکوں کو درپیش مکمل خسارہ کی رپورٹ بھی پیش کی ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک میں جو بینک خسارے میں چلائے جا رہے ہیں ان کے مستقبل کے متعلق حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ مبذول کی جا رہی ہے لیکن حکومت نے تاحال اس حکمت عملی کو قطعیت نہیں دی بلکہ منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ خسارے میں چلائے جانے والے ان بینکوں کو حکومت دیگر کامیاب بینکوں میں ضم کرنے کے امور کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان بینکوں کے صارفین کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے لیکن ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جو بینک خسارے میں چلا ئے جا رہے ہیں انہیں ان بینکوں میں ضم کرنا جو منافع میں ہیں انہیں بھی خسارہ میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے اسی لئے ان بینکوں کو جو خسارہ میں ہیں انہیں منافع کمانے والے بینکوں میں ضم کرنے کی پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہوگی کیونکہ اس اقدام سے ان بینکوںکو بھی نقصان کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT