Friday , December 15 2017
Home / مضامین / ۔HPS انڈین پبلک اسکولس پرنسپالس کانفرنس

۔HPS انڈین پبلک اسکولس پرنسپالس کانفرنس

ایم اے حمید
ہندوستان کے سرکردہ پبلک اسکول کی سالانہ کی جو سوسائٹی ہے ، وہ IPSC انڈین پبلک اسکولس کانفرنس ہے۔ اس کی 77 ویں پرنسپالس کانفرنس کے یہاں حیدرآباد پبلک اسکول بیگم پیٹ میں 7 جنوری 2017 ء تا 10 جنوری 2017 ء انعقاد عمل میں آیا ۔ تین روزہ کانفرنس میں مختلف موضوعات  پر کئی سرکردہ شخصیات نے اظہار خیال کیا۔ گورنر تلنگانہ / اے پی مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے اس کا رسمی افتتاح کیا اور عامر خان کی مشہور فلم 3-Idiot کے مسٹر سونم وانچک جو ایک انجنیئر ، ماہر تعلیم ہے اور سب سے زیادہ ایوارڈس حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں ۔ تخلیق کار جن کو The Real Life Phonsuk Wangudu کہا جاتاہے اس کانفرنس کی مرکز نگاہ رہے۔ حیدرآباد میں IPSC کی یہ کانفرنس پہلی مرتبہ ہوئی ہے ۔ حیدرآباد پبلک اسکول  کواس کی میزبانی کا اعزازحاصل ہوا ۔ IPSC کے اس 77 ویں Principals Conclave میں ملک کے مختلف شہروں کے 50 ٹاپ پبلک اسکولس کے پرنسپالس نے شرکت کی اور اندور کے نامور Daly کالج کے پرنسپل کو کارنامہ حیات ایوارڈ دیا گیا، اس کے علاوہ اس موقع پر اُن Innovators کو ایوارڈس دیئے گئے جو Rolen Award Enterprise 16 تھے ۔ اس میں سونم وانگ چک شامل ہیں۔ HPS بیگم پیٹ میں منعقدہ یہ IPSC Principals Conclave نہایت کامیاب رہی اور کئی اعتبار سے بااعتماد رہی۔
یہاں ہم قارئین سیاست کو اس شخصیت سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں جس کا ایک مشن ہے۔ ایک یونیورسٹی کا قیام اور کشمیر کے برفیلی پہاڑی علاقہ لداخ میں تعلیمی انقلاب لانے کا خواب  ان کے تخلیقی خیالات اور عزائم کو یہیاں پیش کیا جارہا ہے ۔ وانچک بنیادی طور پر لداخ سے تعلق رکھنے والا میکانیکل  انجنیئر ہے ۔ یہ چوینگ نرہال کے ایک پراجکٹ سے متاثر تھے جو برفیلی علاقہ میں آبپاشی سے متعلق تھا۔ ان کا نیا پراجکٹ لداخ میں ایک ایسا یونیورسٹی قائم کرنا ہے جہاں طالب علم ہر چیز تجربہ سے حاصل کرے گا ۔ انہوں نے لداخ کے تعلیمی اور ثقافتی تحریک کو جو ڑتے ہوئے اس کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا۔  اس لئے وہ نئے تعلیمی نظام کو روشناس کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ کسی زبان سے واقف نہیں رہتا جب اس کی عمر دو سال ہوجاتی ہے تو وہ اپنی مادری زبان میں بات کرسکتا ہے۔ جیسا کہ اگر کوئی بچہ تلنگانہ کے تلگو گھرانہ میں پیدا ہوا ہو تو وہ تلگو زبان میں بات روانی سے کرے گا ۔ اس طرح انگلینڈ میں پیدا ہونے والا انگلش زبان میں روانی سے بات کرے گا ۔ اب جو بچوں کو ابتدائی عمر میں Play-way طریقہ سے سکھایا جارہا ہے ، یہ ایک ماہر تعلیم ہے اور تعلیمی اصلاحات کیلئے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ٹیچرس اس بات کو مانتے ہیں کہ بچوں کو کمرہ جماعت میں قید کرکے صرف یادداشت کے ذریعہ معلومات نہیں پڑھائے جاسکتے۔ لداخ کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 90 کے دہے میں 95 فیصد طلبہ ناکام ہورہے تھے کیونکہ لداخ میں بچہ پہلے اپنی مادری زبان لداخی بولتا ہے پھر آٹھویں سطح میں اردو سیکھتا ہے ، اس کے بعد مکمل نصاب نویں جماعت سے انگلش میں ہوجاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ طالب علم کیلئے جو کچھ  سیکھا وہ بے فیض رہا۔اب جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے اشتراک سے یہ متبادل درسی کتب لداخ علاقہ کیلئے تیار کر رہے ہیں جوطالب علم راستہ پر پہنچے اس سے سیکھیں، کھیلیں اور چست رہے۔ ا نہوں نے اپنے اسکول میں ایسے ناکام ہونے والے طلبہ کیلئے خصوصی سیکشن قائم کیا ہے، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ اسکول کس طرح کام کر رہا ہے ۔ یہاں HDS میں اسکولس ٹیچرس کے ساتھ Interact سیشن رہے جس میں نہ صرف ان سے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا بلکہ سیلفی فوٹوز سیشن بھی رہے۔ سونم وانگچک Sonam Wangchuck  اسٹوڈنٹ سایجوکیشنل اینڈ کلچر مومنٹ آف لداخ (SECMOL) 1988 ء میں قائم کیا اور متبادل اسکولس قائم کئے جو روایتی اسکولس میں ناکام ہونے والے طلبہ آسکتے ہیں، اس کے انتہائی شاندار نتائج برآمد ہوئے۔ 1996 ء میں میٹرک کا نتیجہ صرف 5 فیصد تھا اور ان اسکولس کے تجربہ کے بعد 75 فیصد تک پہنچ گیا۔ سونم نے جو دیڑھ لاکھ پونڈ کا ایوارڈ حاصل کیا تھا، اسکی رقم سے HIAL ہمالیائی انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹیوز لداخ میں یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے، اس پر خرچ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT