Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / ’تاج محل‘ کو بابری مسجد ‘ بننے نہ دیا جائے

’تاج محل‘ کو بابری مسجد ‘ بننے نہ دیا جائے

آگرہ۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) تاج محل کو شیو مندر قرار دینے کیلئے دائرکردہ درخواست پر قانونی مقدمہ نے آج اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جب آگرہ کی کئی سیاحتی تنظیموں و اداروں نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے خواہش کی ہیکہ اس تاریخی یادگار کو ’’بابری مسجد‘‘ بننے نہ دیں ۔ ہری شنکر جین وکیل اور پانچ دیگر نے عدالت سے رجوع ہوکر یہ استدعا کی تھی کہ ہندوؤ

آگرہ۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) تاج محل کو شیو مندر قرار دینے کیلئے دائرکردہ درخواست پر قانونی مقدمہ نے آج اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جب آگرہ کی کئی سیاحتی تنظیموں و اداروں نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے خواہش کی ہیکہ اس تاریخی یادگار کو ’’بابری مسجد‘‘ بننے نہ دیں ۔ ہری شنکر جین وکیل اور پانچ دیگر نے عدالت سے رجوع ہوکر یہ استدعا کی تھی کہ ہندوؤں کو تاج محل میں پوجا پاٹ کی اجازت دی جانی چاہیئے ۔ ان کا کہنا ہیکہ یہ پہلے ایک شیو مندر تھا ۔ انہوں نے عدالت سے خواہش کی تھی کہ حکام کو یہ ہدایت دی جائے کہ مسلمانوں کی جانب سے کوئی مذہبی سرگرمی انجام نہ دی جائے اور اس احاطہ میں موجود تمام قبور کو مسمار کردیا جائے ۔ ہری شنکر جین نے کہا کہ اس مندر کو ’’ تیجو مہالیہ ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ انہوں نے تاج محل کی ملکیت کے دعوی کیلئے لارڈ اگریشور مہادیو کو اصل دعویدار قرار دیا ہے ۔ انہوں نے خود کو لارڈ اگریشور کا ’’دوست ‘‘ قرار دیا ۔ سماعت کے دوران منظورہ گائیڈ اسوسی ایشن نے مداخلت کی خواہش کی ۔ اسوسی ایشن کے عہدیدار وریشور ناتھ ترپاٹھی نے کہا کہ تاج محل ایک اہم سیاحتی مرکزہے اور نہ صرف آگرہ بلکہ سارے ہندوستان کے فخر کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغل یادگار کو متنازعہ نہیں بنایا جانا چاہیئے ۔ عدالت اس بات کو یقینی بنائے کہ تاج محل کو ایک اور بابری مسجد بننے نہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تاج محل کو متنازعہ بنانے سے نہ صرف دنیا بھر میں اس کی کشش ختم ہوگی بلکہ ملک میں سیاحت کو بھی نقصان ہوگا ۔ عدالت نے قبل ازیں وزارت سیاحت و ثقافت ‘ وزارت داخلہ اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے موقف طلب کیا ۔ آئندہ سماعت 16جولائی کو مقرر ہے ۔ ہری شنکر جین آر ایس ایس کا حامی ہے ۔ ان کا یہ موقف ہیکہ تاج محل کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں اور نہ ہی یہ مسلم جائیداد ہے ۔ اسے ’’پوجا ‘‘ کے علاوہ کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ یہ جائیداد لارڈ اگریشور مہادیو کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT