Thursday , September 20 2018
Home / سیاسیات / ’سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ‘

’سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ‘

نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج تاثر کا اظہار کیا کہ کانگریس کی تائید سے عام آدمی پارٹی کی حکومت کا قیام اروند کجریوال حکومت کی جانب سے پیش کردہ جن لوک پال بل کی مخالفت کیلئے کانگریس کا بی جے پی سے تعاون یہ ثابت کرتا ہیکہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ دہلی میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے عا

نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج تاثر کا اظہار کیا کہ کانگریس کی تائید سے عام آدمی پارٹی کی حکومت کا قیام اروند کجریوال حکومت کی جانب سے پیش کردہ جن لوک پال بل کی مخالفت کیلئے کانگریس کا بی جے پی سے تعاون یہ ثابت کرتا ہیکہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ دہلی میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس آر ایم لودھا اور جسٹس ایم وی رمنا پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ ’’ہندوستان میں صورتحال بدلتی رہتی ہے۔ ایک ہی پارٹی تائید بھی کرسکتی ہے اور وہی پارٹی مخالفت بھی کرسکتی ہے‘‘۔ مزید برآں کسی ریاست میں ایک پارٹی کسی پارٹی کی تائید کرتی ہے تو دوسری ریاستوں میں اس کی ہی مخالفت کرتی ہے۔

دہلی میں جس امیدوار نے برسرعہدہ چیف منسٹر کو شکست دی اس امیدوار کو تشکیل حکومت کیلئے شکست خوردہ چیف منسٹر کی پارٹی کی تائید حاصل ہوگئی اور بنچ نے کہا کہ ’’جب برسراقتدار جماعت جن لوک پال بلپیش کی تو اس کی تائید کرنے والی کانگریس خود اپنی ہی حریف بی جے پی سے ہاتھ ملا لی اور اسمبلی میں اس بل کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی‘‘۔ بنچ نے کہا کہ ’’آج کا دشمن کل کا دوست ہوسکتا ہے بلکہ ایک بہترین دوست بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ سیاست میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ بنچ نے اپنی اس تاثر کا اظہار کیا کہ ’’دہلی اسمبلی میں اصل اپوزیشن جماعت بی جے پی نے کانگریس کی تائید کی اور کانگریس نے بی جے پی کی تائید کی جب عام آدمی پارٹی حکومت نے جن لوک پال بل پیش کیا‘‘۔ بنچ نے کہا کہ دہلی کے سیاسی واقعہ سے دو چیزیں واضح طور پر ابھر آئی ہیں کہ ’’کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی‘‘ اور اگر دو پارٹیاں ایک پلیٹ فام پہ نہیں آتیں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے پلیٹ فام پر مل بیٹتھی اور جن لوک پال میں بی جے پی اور کانگریس کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجہ میں بل پیش نہیں کیا جاسکا۔

TOPPOPULARRECENT