Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ’شادی مبارک‘ غریب مسلم لڑکیوں کیلئے حکومت کی اسکیم

’شادی مبارک‘ غریب مسلم لڑکیوں کیلئے حکومت کی اسکیم

رواں سال 40,000 مسلم لڑکیوں کی شادی کا منصوبہ، بجٹ میں اضافہ کی تجویز

رواں سال 40,000 مسلم لڑکیوں کی شادی کا منصوبہ، بجٹ میں اضافہ کی تجویز
حیدرآباد۔/23ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی سے متعلق اسکیم کا نام ’’ شادی مبارک ‘‘ رکھا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اسکیم کیلئے مختلف نام پیش کرنے کی سفارش کی گئی تھی اور محکمہ نے اسکیم کیلئے 35نام تجویز کئے جن میں چیف منسٹر نے ’ شادی مبارک ‘ کو منظوری دی۔ اس اسکیم کے تحت غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس51ہزار روپئے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ حکومت جاریہ مالیاتی سال کے باقی چار ماہ میں بڑے پیمانے پر اسکیم پر عمل آوری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جاریہ سال 40ہزار لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد کا منصوبہ ہے تاہم اس سلسلہ میں بجٹ میں رقم مختص کرنے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے بجٹ تجاویز میں اس اسکیم کیلئے 5کروڑ روپئے کی تجویز رکھی ہے جبکہ حکومت اسے بڑھا کر 200کروڑ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر اسکیمات کیلئے بجٹ میں کمی کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ حکومت کو دوبارہ تجاویز پیش کریں۔ سابق میں اجتماعی شادیوں کے نام سے اس اسکیم پر عمل کیا جارہا تھا جس کے تحت حکومت ضروری سازوسامان فراہم کرتے ہوئے شادی کا اہتمام کرتی تھی۔ چندر شیکھر راؤ نے اس طرح کی شادیوں کے بجائے غریب خاندانوں کو نقد 51ہزار روپئے امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں شادی کے اخراجات کی پابجائی ہوسکے۔ حکومت اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے رہنمایانہ خطوط طئے کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی کی انجام دہی کے بعد غریب خاندان امداد کیلئے درخواست داخل کریں تو ایم آر او اور دیگر سطح پر اس کی جانچ کی جائے گی اور مستحق خاندان ثابت ہونے کی صورت میں رقم راست طور پر والدین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت کا بجٹ توقع ہے کہ اکٹوبر میں پیش کیا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس غیر معمولی شہرت کی حامل اسکیم کیلئے بجٹ میں کتنی رقم مختص کرتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے اجلاس میں ہدایت دی تھی کہ اس اسکیم کیلئے کم از کم 200کروڑ مختص کئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ مالیاتی سال یہ ممکن نہیں تاہم آئندہ سال بجٹ میں اس کے لئے گنجائش فراہم کی جاسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT