Thursday , December 13 2018

’فتویٰ‘نے مجھے ناکامی سے دوچار کیا : کرن بیدی

نئی دہلی ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کرن بیدی ایسا معلوم ہوتا ہیکہ آج شاہی امام جامع مسجد سید احمد بخاری کے فتوے کو اپنی ناکامی کی وجہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہی امام نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ یہی وجہ ہیکہ کرشنا نگر انتخابی حلقہ سے جو بی جے پی کا روایتی مستحکم گڑھ ہے، انہیں ناکامی ہوئی۔ انہ

نئی دہلی ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کرن بیدی ایسا معلوم ہوتا ہیکہ آج شاہی امام جامع مسجد سید احمد بخاری کے فتوے کو اپنی ناکامی کی وجہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہی امام نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ یہی وجہ ہیکہ کرشنا نگر انتخابی حلقہ سے جو بی جے پی کا روایتی مستحکم گڑھ ہے، انہیں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس مسئلہ کی تحقیقات کرنا چاہئے اور جاننا چاہئے کہ رائے دہی سے ایک دن قبل مسلمانوں سے شاہی امام کی اپیل کے زیراثر انتخابی نتیجہ تو برآمد نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ الیکشن کمیشن اس کی تفتیش کرے۔ واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ فتویٰ کا رائے دہندوں پر اثر مرتب ہوا تھا یا نہیں۔ کرن بیدی نے دعویٰ کیا کہ حالانکہ وہ رائے شماری میں سبقت حاصل کئے ہوئے تھی۔ ووٹوں میںان کا حصہ انحطاط پذیر ہوگیا جبکہ مسلم غالب آبادی والے علاقہ کے ووٹوں کا شمار کیا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ ان سے کرشنا نگر کے ووٹوں کی گنتی کے دوران کہا گیا ہیکہ وہ سبقت حاصل کئے ہوئے تھی جبکہ اس علاقہ کے ووٹوں کی گنتی ہورہی تھی۔ ممکن ہیکہ فتویٰ کا رائے دہندوں پر اثر مرتب ہوا ہو کیونکہ ووٹوں کی تعداد میں انحطاط مسلم آبادی کے ووٹوں کی گنتی کے دوران پیدا ہونے لگا اور وہ 2000 ووٹوں سے ہار گئیں۔ 7 فبروری کو بخاری نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ عام آدمی پارٹی کیلئے ووٹ دیں لیکن عاپ نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی چونکہ یہ اپیل بخاری کی جانب سے تھی اس لئے کئی بی جے پی قائدین اسے فتویٰ قرار دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT