Saturday , January 20 2018
Home / ہندوستان / ’گھر واپسی ‘پروگراموں کو روکنا وزیر اعظم کی اولین ذمہ داری

’گھر واپسی ‘پروگراموں کو روکنا وزیر اعظم کی اولین ذمہ داری

نئی دہلی۔/19ڈسمبر، ( فیکس) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کی تاکید کرتے ہوئے صوم و صلوٰۃ کی پابندی کرنے اور تلاوت قرآن کریم صبح و شام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اخلاق حسنہ اور محبت سے پھیلا ہے اور پھیل

نئی دہلی۔/19ڈسمبر، ( فیکس) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کی تاکید کرتے ہوئے صوم و صلوٰۃ کی پابندی کرنے اور تلاوت قرآن کریم صبح و شام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اخلاق حسنہ اور محبت سے پھیلا ہے اور پھیلتا ہی رہے گا۔ شاہی امام نے یو پی اور دیگر ریاستوں میں فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے ’’ گھرواپسی‘‘ پروگراموں کے انعقاد کی مذمت کی اور اسے ملک و سماج کے لئے ایک خطرناک عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 67برس سے ہندوستان میں یہ پروگرام نہیں چلائے گئے تو مودی حکومت میں کیوں چلائے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم اولین فرصت میں اس پر روک کیوں نہیں لگارہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہورہی ہے تو کیا وزیر اعظم ان پروگراموں کی حمایت کررہے ہیں؟ نہ صرف ان پروگراموں پر روک لگے بلکہ ان کو منعقد کرنے والے لیڈروں کی گرفتاری ہونی چاہیئے اور اس کے اسباب کے انسداد پر کارروائی ہونی چاہیئے۔ شاہی امام نے پاکستان کے پشاور میں اسکول میں 16ڈسمبر کو ہونے والی المناک وحشیانہ دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کی۔ بے گناہ نوخیز نوجوان طالب علموں کے وحشیانہ قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دہشت گرد نعرہ تکبیر بھی بلند کررہے ہیں اور طالب علموں کو کلمہ طیبہ پڑھنے کی تلقین بھی کررہے ہیں اور ایک ہاتھ کے فاصلے پر کھڑے کرکے بے رحمی سے ہلاک بھی کررہے تھے۔

مذہب اسلام تو کہتا ہے کہ اگر کوئی ناحق ایک جان بھی لیتا ہے تو وہ پوری انسانیت اور تمام انسانوں کا قتل کرتا ہے۔ یہ دہشت گرد کون سے مذہب کے ماننے والے ہیں عقل حیران ہے۔ پسماندگان کی تعزیت اور اظہار ہمدردی کے ساتھ شہداء کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے ہم دہشت گردوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ظالمانہ اور وحشیانہ غیر اسلامی عمل کو فوراً ترک کیا جائے۔ شاہی امام نے پشاور سانحہ کے بعد جاری ہونے والے حافظ سعید کے بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے اس سانحہ کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ شاہی امام نے وزیر اعظم اسرائیل نتن یاہو کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی جو انہوں نے اقوام متحدہ کونسل میں فلسطین کی حمایت میں ووٹنگ کے بعد جاری کرتے ہوئے بعض یوروپی ریاستوں اور حمایت میں ووٹ ڈالنے والے ممالک کی مذمت کی ہے۔ شاہی امام نے یو این او سے اپیل کی ہے کہ صیہونی لیڈر پر گرفت کرے جو اعلانیہ طور پر اقوام متحدہ کونسل کی مذمت کررہا ہے اور صیہونی جارحیت کو درست بتارہا ہے۔ شاہی امام نے فلسطین کی حمایت کرنے کا یو این او سے مطالبہ کیا ہے۔ شاہی امام نے مزید کہا کہ مسجد فتح پوری میں مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقیؒ کے عرس شریف کے موقع پر ایک کانفرنس کا انعقاد زیر سرپرستی شاہی امام مفتی محمد مکرم احمد23ڈسمبر بروز منگل بعد نماز مغرب منعقد ہوگا جس میں مذہب اسلام کی تعلیمات اور اولیاء کرام کی خدمات پر علماء کرام بیان کریں گے جن میں مولانا معظم احمد، پروفیسر غلام یحییٰ انجم، پروفیسر تہرانی اور سید جاوید علی نقشبندی قابل ذکر ہیں۔ نامور شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی ، اسلم وارثی اور محمد یوسف ہاتف منقبت پیش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT