Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / ’’امریکہ پر ایرانی پرچم لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘

’’امریکہ پر ایرانی پرچم لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘

لندن ، 3 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس پر ایرانی پرچم اور شہداء کی تصاویر لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی انقلاب کی قدریں مناسب انداز میں اب دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہیں۔ سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار جنوب مغربی شہر عبادان میں آٹھ سالہ عراق۔ ای

لندن ، 3 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس پر ایرانی پرچم اور شہداء کی تصاویر لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی انقلاب کی قدریں مناسب انداز میں اب دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہیں۔ سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار جنوب مغربی شہر عبادان میں آٹھ سالہ عراق۔ ایران جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور جنگ زدہ علاقوں کے شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک وائٹ ہاؤس پر ایران کا پرچم اور شہدائے انقلاب کی تصاویر نہیں لہرائی جاتیں ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

سابق صدر نے کہا کہ ہم اپنی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے ایران کی دینی اور ثقافتی اقدار کی اپنی جانوں سے بڑھ کر حفاظت کی۔ ہمارے پاس افراد کا عدیم النظیر ذخیرہ موجود ہے اور اسے بہتر انداز میں استعمال میں لانا ضروری ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسی جگہ پر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ایک تقریب سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنی تقریر میں عوام الناس سے کہا تھا کہ وہ ’’انقلاب کی اخلاقی اور دینی قدروں کو اپنی نئی نسل تک پہنچائیں‘‘۔ خیال رہے کہ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے دوسرے دور صدارت کے دوران ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اختلافات کی بنیادی وجہ انٹلیجنس کی وزارت پر من پسند شخص کی تقرری بنی تھی۔ احمدی نژاد نے اپنی مرضی کا انٹلیجنس وزیر مقرر کیا تو خامنہ ای نے بر طرف وزیر کو ان کے عہدہ پر بحال کر دیا تھا۔

صدارت چھوڑنے کے بعد احمدی نژاد ایسی تقاریب میں شرکت سے گریز کرتے رہے ہیں جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ موجود ہوں۔ اس کے علاوہ موجودہ ایرانی حکومت بھی سابق صدر پر سخت نکتہ چینی جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم احمدی نژاد کے چھوڑے ہوئے ملبے کے ڈھیر سے تنکے جمع کر رہے ہیں۔ انھوں نے سابق صدر کی خارجہ پالیسیوں اور عالمی برادری سے تعلقات خراب کرنے پر بھی انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں احمدی نژاد کے داماد اسفندیار رحیم مشائی نے صدر روحانی کو اپنے پیشرو پر نکتہ چینی کی پاداش میں سخت نتائج کی دھمکی دی۔ فارسی نیوز ویب پورٹل ’میدان 72‘ کے مطابق رحیم مشائی کے بقول احمدی نژاد خاموش آتش فشاں ہیں اور اس سے نکلنے والا لاوا مخالفین کو نگل جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ صدر روحانی اور ان کے حامی علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ،احمدی نژاد کے سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ انھیں چاہئے کہ وہ احمدی نژاد کے خاموش رہنے کی دعا کریں۔ اگر انھوں نے خاموشی توڑی تو پھر بہت برا ہو گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT