Wednesday , December 19 2018

’’بی جے پی حکومت کے استحکام کی این سی پی ذمہ دار نہیں ‘‘

علی باغ (مہاراشٹرا)۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرنویس حکومت نے آج خود کو ایک پریشان کن صورتِ حال میں پایا جبکہ این سی پی کے صدر شرد پوار جن کی پارٹی حکومت کو باہر سے تائید فراہم کررہی ہے، اپنا موقف برعکس کرلیا اور کہا کہ 18 روزہ حکومت کا استحکام ان کی پارٹی کی ذمہ داری نہیں ہے اور پارٹی کارکنوں سے خواہش کی کہ وسط مدتی انتخابات کے لئے تیار

علی باغ (مہاراشٹرا)۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرنویس حکومت نے آج خود کو ایک پریشان کن صورتِ حال میں پایا جبکہ این سی پی کے صدر شرد پوار جن کی پارٹی حکومت کو باہر سے تائید فراہم کررہی ہے، اپنا موقف برعکس کرلیا اور کہا کہ 18 روزہ حکومت کا استحکام ان کی پارٹی کی ذمہ داری نہیں ہے اور پارٹی کارکنوں سے خواہش کی کہ وسط مدتی انتخابات کے لئے تیار رہیں۔ پوار پارٹی کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے جو مہاراشٹرا کے ضلع رائے گڑھ کے علاقہ علی باغ میں جاری ہے۔ مراٹھا مردِ آہن نے کہا کہ مہاراشٹرا کی موجودہ صورتحال دیرپا سیاسی استحکام کی نشاندہی نہیں کرتی۔ اگر سیاسی عدم استحکام جاری رہے تو چار تا چھ ماہ میں ریاست کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہوگا اور یہ ریاست کے لئے کوئی اچھی بات نہیںہوگی۔ بی جے پی کی اقلیتی حکومت کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے پہلے ہی دن جبکہ معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی، این سی پی دیویندر فرنویس حکومت کو غیرمشروط خارجی تائید فراہم کرنے کے بعد انہوں نے اپنا موقف برعکس کرلیا۔ فرنویس حکومت اسمبلی میں متنازعہ خط اعتماد حاصل کرچکی ہے جبکہ شوروغل کے درمیان ندائی رائے دہی منعقد کی گئی تھی۔ این سی پی کے ارکان اسمبلی نے مبینہ طور پر تحریک اعتماد پر رائے دہی کے دوران اپنی نشستوں سے جنبش بھی نہیں کی۔ شیوسینا اور کانگریس نے ندائی رائے دہی کو مسترد کردیا اور گورنر کو درخواست پیش کی کہ حکومت کو ازسرنو خط اعتماد حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ شرد پوار قبل ازیں بھی کہہ چکے ہیں کہ مہاراشٹرا میں اولین بی جے پی حکومت کا اپنی میعاد پوری کرنا غیریقینی ہے۔ ان کے بھتیجے سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار بھی اقلیتی حکومت کے خط اعتماد حاصل کرنے کے طریقہ کار پر برہم ہیں۔ حالانکہ این سی پی نے حکومت کی تائید کا اعلان کیا ہے، اس نے اس سلسلے میں گورنر کو رسمی مکتوب حوالے کرنے سے بھی گریز کیا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے کہا کہ پوار کا بیان غیرمتوقع نہیں ہے۔ مہاراشٹرا میں عوام پوار کی سیاست قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ اس لئے ان کو آج کے بیان پر کوئی تعجب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہم نہ تو این سی پی سے تائید چاہتے ہیں اور نہ مدد کیلئے اپیل کریں گے۔ شرد پوار نے اپنے طور پر غیرمشروط تائید کا اعلان کیا تھا۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں پوار نے اپنے الفاظ اور موقف سے انحراف کرلیا ہے۔ فرنویس نے اتوار کے دن کہا تھا کہ ان کی کابینہ میں 8 ڈسمبر سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس سے پہلے توسیع کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT