Monday , June 18 2018
Home / سیاسیات / ’’روشن مستقبل‘‘ تبصرہ پر نریندر مودی کی وزیراعظم پر تنقید

’’روشن مستقبل‘‘ تبصرہ پر نریندر مودی کی وزیراعظم پر تنقید

منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت پر اسکینڈلس اور مایوس کن سیاست کا الزام

منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت پر اسکینڈلس اور مایوس کن سیاست کا الزام
نئی دہلی 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی نے آج وزیراعظم منموہن سنگھ پر اُن کے ’’روشن مستقبل‘‘ کے تبصرہ کی بناء پر غیرمقیم ہندوستانیوں کے اجلاس میں سخت تنقید کی۔ یو پی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اِس کی اسکینڈلس کی پالیسی نے ملک کو مفلوج کردیا ہے اور انتشار کی سیاست میں عوام کے اعتماد اور حکومت اور اُس کے قائدین کے بارے میں تصور پر ضرب لگائی ہے۔ پرواسی بھارتیہ دیوس کے پلینری اجلاس میں مودی نے این آر آئیز پر زور دیا کہ وہ انتخابی عمل میں حق رائے دہی سے استفادہ کرتے ہوئے شرکت کریں اور ’’انقلاب‘‘ میں مدد کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں ایک انقلاب آنے والا ہے۔ وزیراعظم نے کل ایک اچھی بات کہی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ بہت جلد روشن مستقبل آنے والا ہے اور مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مودی نے کہاکہ وہ وزیراعظم سے متفق ہیں وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ آپ کو صرف 4 یا 6 ماہ انتظار کرنا ہوگا۔ اچھے دن ضرور آئیں گے۔ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نے نشاندہی کی کہ اُن کی پارٹی مرکز میں لوک سبھا انتخابات کے بعد نئی حکومت تشکیل دے گی۔ مودی کا منموہن سنگھ پر طنز وزیراعظم کے اِس بیان کے ایک دن بعد منظر عام پر آیا ہے

جس میں اُنھوں نے ہندوستانی معیشت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے اندیشوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی معیشت کا مستقبل روشن ہے۔ اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سناتے ہوئے جس کی نقلیں اجلاس کے شرکاء میں تقسیم بھی کی گئی تھی، یو پی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ خاص طور پر گزشتہ 10 سال کے دوران حقیر سیاست کی ایسی پستی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہمیں دکھائی دی ہے۔ خود غرضی اور استحصال اُصولوں کی سودا بازی اور مستقل بنیاد پر قوم کی تعمیر کے دعوے جھوٹے ثابت ہوتے نظر آتے۔ اُنھوں نے کہاکہ معیشت کا حاال ابتر ہوگیا کیونکہ ایک بعد ایک کئی اسکینڈلس اور کرپشن کے واقعات کا انکشاف ہوا۔ بنیادی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ پالیسی مفلوج ہوگئی تھی۔ معاشرہ جمود کا شکار تھا اور بحیثیت مجموعی انتشار پسند سیاست کے عوام کے اِس تصور اور اعتماد پر منفی اثرات پیدا ہوئے تھے جو عوام کو حکومت اور قائدین پر تھا۔

کرپشن کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ تبدیلی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ مسائل کے اُبھرنے کے بعد اُن کا سامنا کرنا کرپشن کو روکنے کے بجائے اِس میں اضافہ کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مابعد کرپشن ہمارے ملک میں کئی مباحث ہوئے ہیں کوئی لوک پال کی تو کوئی جن لوک پال کی بات کرتا ہے۔ ہمیں اپنی توجہ کرپشن پر مرکوز کرنی چاہئے مابعد کرپشن پر نہیں۔ ہمیں کرپشن ہونے سے پہلے ہی اِس کی روک تھام کے اقدامات کرنے چاہئے۔ کرپشن کے خاتمہ کے لئے اُنھوں نے تجویز پیش کی کہ ریاستیں پالیسیوں اور قواعد پر سختی سے عمل کریں۔ عوام چاہتے ہیں کہ ریاستیں مرکز کے ذریعہ کارروائی کرنے کے بجائے راست اقدامات کریں۔

TOPPOPULARRECENT