Wednesday , September 26 2018
Home / خواتین کا صفحہ / ’’شاپنگ‘‘ دوران چوکس رہنا ضروری…!

’’شاپنگ‘‘ دوران چوکس رہنا ضروری…!

خریداری کیلئے جانے سے پہلے ان تمام چیزوں کی فہرست بنا لیں، جو آپ کو بازار سے خریدنی ہیں۔ پھر اپنی ضروریات اور بجٹ کو بھی مدنظر رکھیں۔ خریداری کرتے وقت ان چیزوں کو ترجیح دیں جو بہت ضروری ہوں۔ بازار جاتے وقت رقم کبھی ایک جگہ نہ رکھیں بلکہ پرس کے مختلف گوشوں میں رکھیں۔ ورنہ ذرا سی غفلت سے آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ سکتے ہیں۔ خواتین کے نازک

خریداری کیلئے جانے سے پہلے ان تمام چیزوں کی فہرست بنا لیں، جو آپ کو بازار سے خریدنی ہیں۔ پھر اپنی ضروریات اور بجٹ کو بھی مدنظر رکھیں۔ خریداری کرتے وقت ان چیزوں کو ترجیح دیں جو بہت ضروری ہوں۔ بازار جاتے وقت رقم کبھی ایک جگہ نہ رکھیں بلکہ پرس کے مختلف گوشوں میں رکھیں۔ ورنہ ذرا سی غفلت سے آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ سکتے ہیں۔ خواتین کے نازک مزاج پر دو باتیں بہت خوشگوار ڈالتی ہیں، ایک تو ان کے حسن کی تعریف اور دوسرے شاپنگ کیلئے بازار جانا۔ حسین نظر آنے اور سراہتی نگاہوں سے داد وصول کرنے کیلئے انہیں کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، یہ ایک سربستہ راز ہے، جس کا ڈھنڈورا پیٹنا کسی بھی خاتون کیلئے مناسب نہیں، اس لئے اس موضوع کو ایک طرف رکھ کر آج بات کرتے ہیں، خواتین کی شاپنگ کی جس کے ذکر سے ہی خواتین کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔

دیگر امور کی انجام دہی کے علاوہ زیادہ تر خریداری کی ذمہ داری بھی خواتین ہی کے حصے میں آتے ہیں۔ مختلف اشیاء کی خریداری کیلئے بازاروں کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ اپنے بچوں اور شوہر کے کپڑوں کی خریداری کیلئے بھی اور ایک دکان سے دوسری دکان میں جانا، قیمتیں کم کروانے کیلئے چڑچڑے اور بد دماغ دکانداروں سے الجھنا بھی پڑتا ہے تب کہیں جاکر کوئی من چاہی چیز ملتی ہے۔ سو انہی پریشانیوں کے پیش نظر آج ہم شاپنگ کے حوالے سے خواتین کو کچھ ایسی باتیں بتاتے ہیں کہ جن پر دھیان دینے اور عمل پیرا ہونے سے وہ مختلف قباحتوں اور پریشانیوں سے بچ سکتی ہیں۔ شاپنگ کے لئے جانے سے پہلے ان تمام چیزوں کی فہرست بنالیں، جو آپ کو بازار سے خریدنی ہے۔ پھر اپنی ضروریات اور بجٹ کو بھی مدنظر رکھیں۔ خریداری کرتے وقت ان چیزوں کو اول ترجیح دیں، جو بہت ضروری ہوں۔

بازار جاتے وقت رقم کبھی ایک جگہ نہ رکھیں بلکہ پرس کے مختلف گوشوں میں رکھیں کیونکہ عموماً شاپنگ سنٹرز میں نہ صرف مرد جیب کتروں بلکہ چور خواتین کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ آپ کی ذراسی غفلت آپ کے ہاتھوں کے طوطے بھی اڑ سکتی ہے۔ یہ ماہر اور تجربہ کر چور عورتیں آپ سے زیادہ عقلمند اور چالاک ہوتی ہیں۔ لمحہ بھر میں آپ کو آپ کی رقم سے محروم کرسکتی ہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ہر خریدی ہوئی چیز کی رسید دکاندرا سے ضرور لیں تاکہ غلط اور خراب سامان کی واپسی میں دکاندار کو حیل و حجت کا موقع نہ مل سکے اور آپ کو وہ دکان بھی یاد رہے جہاں سے وہ چیز خریدی تھی۔ خریداری کرتے وقت خواتین کو پرسکون رہنا چاہئے اور اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھنا چاہئے کیونکہ اکثر دکاندار رش کی وجہ سے آپ کی توجہ ذرا سی ادھر ادھر ہونے پر اپنا کام بھی دکھا جاتے ہیں۔ دکھائیں گے کچھ اور دیں گے کچھ، جس کا اندازہ آپ کو اس وقت نہیں ہوپاتا۔ شاپنگ کے لئے تمام تھیلیوں کا خیال رکھیں۔ کوشش کریں کہ تمام خریدی ہوئی چیزیں ایک یا دو شاپنگ بیگز میں آجائیں۔ اکثر خواتین زیادہ تھیلے ہونے کی وجہ سے کسی نہ کسی چیز کا تھیلا مختلف دکانوں پر بھول آتی ہیں

اور باقی وقت کھوئے ہوئے سامان کی تلاش میں پریشان رہتی ہیں۔ خریداری کے وقت جذباتی بالکل نہ ہوں اور نہ ہی کسی چیز کو خریدنے میں جلد بازی کریں جو چیز خریدنا چاہتی ہیں پہلے کچھ دکانوں سے اس کی قیمت معلوم کرلیں یقیناً ہر دکان پر اسکی قیمت مختلف ہوگی تو جہاں وہ چیز مناسب قیمت میں ملے وہاں سے خریدیں ورنہ بعد میں اپنی جلد بازی پر صرف افسوس اور پچھتاوا ہی ہوگا۔ بازار جاتے وقت بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کی غلطی کبھی نہ کریں کیونکہ خریادری بڑا تھکادینے والا عمل ہے، وقت بھی خاصا لگتا ہے جبکہ بچے بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں۔ اتنی دوڑ دھوپ میں وہ جلد تھک جاتے ہیں۔ باقاعدہ رونے اور بار بار گھر جانے کی ضد کرنے لگتے ہیں، تب آپ کو مجبوراً اپنی خریداری ادھوری چھوڑ کر واپس آنا پڑتا ہے اور اگر بچے بے حد شریر ہوں تو انکی دوڑ بھاگ آپ کیلئے ویسے ہی ایک مسئلہ بن جائے گی تب بھی آپ یکسوئی سے خریداری نہ کر پائیں گی۔ اس لئے بہتر ہیکہ بچوں کو گھر میں محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر آئیں۔

اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوردراز علاقوں سے خواتین شہر کے قلب میں موجود مارکٹ میں خریداری کیلئے آتی ہیں۔ ایسے میں خواتین کو زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسی جگہوں پر خریداری کیلئے جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کونسی چیز کہاں بہتر ملتی ہے اور ان کے دام کیا کیا ہیں تاکہ دکاندار آپ کو بیوقوف نہ بناسکیں۔ بچوں کو ساتھ میں نہ لائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مائیں تو خریداری اور دکاندار سے بحث و مباحثہ میں مصروف رہتی ہیں اور بچے پریشان ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو بچہ ماں کا ہاتھ چھوڑ کر بھیڑمیں کہیں کھو جاتا ہے اور ماں کو پتہ ہی نہیں چلتا اور معلوم پڑنے تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اس لئے خریداری کرتے وقت جذبات سے نہیں دماغ سے کام لیں۔ جلد بازی میں کی ہوئی خریداری آپ کو نقصان میں ڈال سکتی ہے۔ ’’شاپنگ‘‘ ایک ایسی مہم ہے جس کی انجام دہی کے وقت عقل کو حاضر، ذہن کو چوکس اور حواسوں کا بیدار رکھنا بیحد ضروری ہے تب ہی کسی بھی طرح کے سانے سے دوچار ہوئے بغیر اور من پسند خریداری کرکے خوش و خرم گھر کو واپسی ہوتی ہے تو ہماری ہدایات سے متعلق کیا خیال ہے …؟؟

TOPPOPULARRECENT