Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ’’مجھے انکاؤنٹر میں ہلاک کیاجاسکتا ہے ‘‘

’’مجھے انکاؤنٹر میں ہلاک کیاجاسکتا ہے ‘‘

وقار نے پہلے ہی اندیشہ ظاہر کردیا تھا

وقار نے پہلے ہی اندیشہ ظاہر کردیا تھا
حیدرآباد 7 اپریل (سیاست نیوز) ’’میری جان کو پولیس سے خطرہ لاحق ہے اور مجھے حیدرآباد کی جیل کو منتقل کیا جائے‘‘ یہ درخواست پولیس فرضی انکاونٹر میں ہلاک ہونے والے وقار احمد نے عدالت میں کئی مرتبہ پیش کی ۔ کل کانسٹیبل قتل کیس کی سماعت کے بعد بھی وقار احمد نے ایک تحریری حلف نامہ 7 ویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج کے اجلاس میں داخل کیا اور اسے حیدرآباد جیل منتقل کرنے کی گذارش کی تھی۔ عدالت نے وقار احمد کی اس درخواست پر آج دوپہر ڈھائی بجے فیصلہ متوقع تھا اور اس سے قبل ہی اس کا انکاونٹر کردیا گیا ۔ ملک پیٹ کے ساکن وقار احمد عرف علی خان کو ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں اور اس کے والد محمد احمد جو پیشہ سے سیول انجینئر ہے جدہ میں طویل عرصہ سے ملازمت کے بعد حیدرآباد منتقل ہوئے تھے۔ ملک پیٹ ممتاز کالج سے بی کام کمپیوٹرس کے سال دوم میں وقار احمد نے تعلیم کردی تھی اور اسی علاقہ میں نیو اسٹار ویڈیو گیم پارلر قائم کیا تھا اور بعدازاں چادر گھاٹ میں ایک فاسٹ فوڈ سنٹر بھی چلایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT