Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ’’مرکز سے تصادم کو دعوت دینا نہیں چاہتے‘‘

’’مرکز سے تصادم کو دعوت دینا نہیں چاہتے‘‘

وزارت داخلہ کی ہدایات سے عدم دستبرادری پر جوابی کارروائی کا انتباہ:کے ٹی آر

وزارت داخلہ کی ہدایات سے عدم دستبرادری پر جوابی کارروائی کا انتباہ:کے ٹی آر

حیدرآباد 10 اگست ( پی ٹی آئی) حکومت تلنگانہ نے آج واضح کردیا کہ وہ مرکز سے کسی تصادم کو ’’دعوت‘‘ دینا نہیں چاہتی لیکن حیدرآباد میں امن و قانون پر گورنر کو خصوصی اختیارات دینے سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت کو کالعدم نہ کئے جانے کی صورت میں یقیناً وہ جوابی کارروائی کریگی۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کے فرزند اور ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و پنچایت راج کے ٹی راما راو نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزارت امور داخلہ کی طرف سے 8 اگست کو جاری کردہ ہدایات کو ایک ایسا عمل قرار دیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہو ںنے کہا کہ ’’ہم مرکز کے ساتھ کسی تصادم کو دعوت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ لیکن عجلت کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’اگر مرکز اپنی مرضی مسلط کرتا ہے (ہدایات کو کالعدم نہیں کرتا ہے) تو ریاستی حکومت کے پاس جوابی کارروائی کرنے کے سواء کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہے گا ۔ کے ٹی راما راو ( کے ٹی آر) نے کہا کہ ’’اور جوابی کارروائی کیا ہوگی آنے والے دنوں میں یہ بالکل واضح ہوجائے گا‘‘۔راما راؤ نے کہا کہ امن و قانون ،ریاستی حکومت کا معاملہ ہے کسی منتخبہ ریاستی حکومت کے اختیارات سلب کرنے مرکز کا کوئی بھی اقدام وفاقیت کے مجموعی جدبہ کے مغائر ہوگا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر (کے سی آر) نے گذشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب تحریر کیا ہے جس میں ان ہدایات کی منسوخی کی خواہش کی گئی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم نریندر مودی اس مکتوب پر مثبت جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 18 فبروری کو پارلیمنٹ میں آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 کی منظوری اور 2 جون کو ریاست تلنگانہ کے وجود میں آنے کے بعد سے تاحال کوئی قابل ذکر (ناخوشگوار) واقعہ پیش نہیں آیا ۔ کے ٹی آر نے حیرت کا اظہار کیا کہ پھر آخر کیا وجہ ہے جس نے مرکز کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے سکیوریٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے اور حیدرآباد میں امن و قانون کی صورتحال کو بہتر بنانے 400 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ (ہدایات )وزیر اعظم کے دفتر کے علم و اطلاع کے بغیر جاری کئے گئے ہیں۔ اس بات کا امکان ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT