Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / ’’موت کا سوداگر‘‘ ہی مودی کیلئے موزوں لقب

’’موت کا سوداگر‘‘ ہی مودی کیلئے موزوں لقب

نئی دہلی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے نریندر مودی کے خلاف موت کے ’’سوداگر‘‘ کے ریمارک کا پھر ایک مرتبہ استعمال کیا۔ نیز گودھرا واقعہ اور اس کے بعد سارے گجرات میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کیلئے مودی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ کانگریس نے کہاکہ بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار (نریندر مودی) کیلئے ’’موت کا سوداگر‘‘ کا ح

نئی دہلی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے نریندر مودی کے خلاف موت کے ’’سوداگر‘‘ کے ریمارک کا پھر ایک مرتبہ استعمال کیا۔ نیز گودھرا واقعہ اور اس کے بعد سارے گجرات میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کیلئے مودی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ کانگریس نے کہاکہ بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار (نریندر مودی) کیلئے ’’موت کا سوداگر‘‘ کا حوالہ ہی زیادہ موزوں و مناسب رہے گا۔ کانگریس کے ترجمان شکتی سنہہ گویل نے کہاکہ مودی کے چیف منسٹر بننے کے سبب ہی نہیں بلکہ گودھرا المیہ اور فسادات کی اجازت دینے کے بعد ہی بی جے پی کو تین ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔

گویل نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ ’’اگر آپ اُنھیں (مودی کو) موت کا سوداگر نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟‘‘ ان سے استفسار کیا گیا تھا کہ آیا کانگریس مودی کو ہنوز موت کا سوداگر تصور کرتی ہے۔ گویل نے جو گجرات کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے سابق لیڈر اور مودی کے کٹر حریف رہے ہیں، ان کے یہ تبصرے ایک نیا تنازعہ پیدا کرسکتے ہیں کیونکہ 2007 ء کے گجرات اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے یہ ریمارک کیا تھا جس پر زبردست سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ گجرات میں بدترین شکست کے بعد فرقہ وارانہ خطوط پر صف بندی اور مودی کی جانب سے اس کا فائدہ اُٹھائے جانے کے خوف سے کانگریس نے اس ریمارک کے استعمال سے گریز کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT