Thursday , June 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / ’’نسل پرستی ورلڈکپ میں شکست کی وجہ بنی‘‘

’’نسل پرستی ورلڈکپ میں شکست کی وجہ بنی‘‘

جوہانسبرگ ۔17 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی افریقہ کے اسسٹنٹ کوچ مائیک ہورن نے ٹیم میں نسل پرستی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو کھلائے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ کپ سیمی فائنل کی ٹیم میں زبردستی تبدیلی کروائی گئی جو شکست کی وجہ بنی۔ہورن نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کوٹہ پورا کرنے کی وجہ س

جوہانسبرگ ۔17 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی افریقہ کے اسسٹنٹ کوچ مائیک ہورن نے ٹیم میں نسل پرستی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو کھلائے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ کپ سیمی فائنل کی ٹیم میں زبردستی تبدیلی کروائی گئی جو شکست کی وجہ بنی۔ہورن نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کوٹہ پورا کرنے کی وجہ سے اپنی ٹیم میں تبدیلی کی۔کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ بیدار رکھنے اور انہیں ہردم متحرک رکھنے کیلئے مشہور مقرر ہورن 2011 میں جنوبی افریقی ٹیم مینجمنٹ کا حصہ بنے اور انہوں نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں اپنی ٹیم کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو یکطرفہ مقابلے میں شکست سے دوچار کر کے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا تاہم تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب پروٹیز نے سیمی فائنل میں اپنی ٹیم میں تبدیلی کرتے ہوئے ان فارم کائل ایبٹ کی جگہ ورنن فلینڈر کو فائنل الیون میں موقع فراہم کیا۔فلینڈر کی ٹیم میں سلیکشن سے مبینہ طور پر ایک بار پھر نسل پرستی کی بنیاد پر ٹیم میں کھلاڑیوں کی شمولیت کے پرانے ضابطے کو زندہ کردیا جس کو 2007 میں ختم کردیا گیا۔ ’پلیئرز آف کلرز‘ کے نام سے مشہور نسل پرستی کے اس ضابطے کے تحت ٹیم میں کالے، ایشین یا دیگر مکس نسلوں کے چار کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا جاتا تھا۔جنوبی افریقہ کے سنڈے ٹائمز میں ورلڈ فائنل کے بعد چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق فلینڈر کی ٹیم میں سلیکشن براہ راست جنوبی افریقی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ کی ہدایت پر کی گئی۔تاہم لورگاٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بکواس قرار دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT