Thursday , December 13 2018

’’پاکستان امن نہیں چاہتا‘‘ ،مشرف کے بیان پر ہندوستانی سیاستدانوں کا رد عمل

نئی دہلی 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام )سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہ ان کا ملک کشمیر میں تشدد پر اکسانے کی صلاحیت رکھتا ہے بھارتی جنتا پارٹی کے ترجمان نلن کوہلی نے آج کہا کہ اسلام آباد اپنا فائدہ چاہتا ہے اسے ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کا بیان حیرت انگی

نئی دہلی 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام )سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہ ان کا ملک کشمیر میں تشدد پر اکسانے کی صلاحیت رکھتا ہے بھارتی جنتا پارٹی کے ترجمان نلن کوہلی نے آج کہا کہ اسلام آباد اپنا فائدہ چاہتا ہے اسے ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کا بیان حیرت انگیز نہیںہے کیونکہ پاکستان مستقل طور پر اس بات کا مظاہرہ کرتا رہا ہے کہ اسے ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ کانگریس کے قائد راشد علوی نے بھی سابق سربراہ فوج کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کا ذہنی توازن خراب ہوچکا ہے انہیں تاریخ کے صفحات کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ بیجو جنتا دل کے قائد جئے پانڈا نے پر زور انداز میںکہا کہ ایسے بیانات سے ہندوستان کو مشتعل نہیںہوناچ اہئے ۔

انہو ںنے کہا کہ ممکن ہے کہ پرویز مشرف کی کوشش ذرائع ابلاغ میں شہرت حاصل کرنے کی ہو ۔ اس لئے وہ کچھ بھی کہیں ہمیں مشتعل نہیں ہونا چاہئے ۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے بیانات کو نظر انداز کردیا جائے ۔ کل مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان کشمیر میں تشدد پر اکسانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اکسانے کا منتظر ہے اور پاکستان میں تشدد پر اکسانے کی صلاحیت موجود ہے ۔ ان کا یہ بیان ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطہ قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر اہمیت رکھتا ہے ۔ دریں اثناء پاکستان کے مشیر سلامتی سرتاج عزیز نے دعوی کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ سرحد ایک زیادہ بڑی سازش ہے جو حکومت ہند نے کی ہے تا کہ پاکستان پر الزام عائد کیا جائے کہ وہ سرحد کے مسئلہ کا استحصال کررہا ہے تا کہ ریاستی انتخابات میں رائے دہندوں کو ترغیب دے سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کی سرزمین پر جارحانہ کارروائیاں نہیںکرسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT