Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / ’’چلتا ہے‘‘ رویہ کی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مذمت

’’چلتا ہے‘‘ رویہ کی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مذمت

نئی دہلی۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم کے کئی پروگراموں میں تاخیر پر وزیراعظم نریندر مودی نے آج ’’چلتا ہے‘‘ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ایک سخت پیغام دیا اور دفاعی تحقیقی ادارہ سے خواہش کی کہ تمام پراجیکٹس بروقت مکمل کرلئے جائیں گے تاکہ ہندوستان پوری دنیا سے آگے رہ سکے۔ انہوں نے دفاعی شعبہ میں ٹیکنالوجی کی اہمیت پر ز

نئی دہلی۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم کے کئی پروگراموں میں تاخیر پر وزیراعظم نریندر مودی نے آج ’’چلتا ہے‘‘ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ایک سخت پیغام دیا اور دفاعی تحقیقی ادارہ سے خواہش کی کہ تمام پراجیکٹس بروقت مکمل کرلئے جائیں گے تاکہ ہندوستان پوری دنیا سے آگے رہ سکے۔ انہوں نے دفاعی شعبہ میں ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تیز رفتار تبدیلی آرہی ہے اور ہندوستان پیچھے رہ گیا ہے

کیونکہ جن مصنوعات کو ’’دو قدم آگے‘‘ رہنا چاہئے تھا اور بازار میں ’’اس نظام کے بارے میں ہمارے تصور کرنے سے پہلے‘‘ آجانا چاہئے تھا، تاخیر سے بازار میں آرہی ہیں۔ ہندوستان کے پاس صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’’چلتا ہے‘‘ کا رویہ اس کی وجہ ہے۔ انہوں نے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم سے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کرلے کہ وقت کے تقاضوں کی تکمیل کرے گا یا نہیں اور اسی مناسبت سے دُنیا کے سامنے اپنا ایجنڈہ پیش کرے گا یا نہیں۔ وزیراعظم نے ڈی آر ڈی او ایوارڈس پیش کرنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا کی قیادت کرسکتے ہیں۔ ہمیں راستہ بتانے کے لئے کسی کی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ دُنیا ہمارا انتظار نہیں کرے گی، ہمیں وقت سے آگے دوڑنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، ہمیں وقت سے پہلے اس کی تکمیل کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی پراجیکٹ کا نظریہ 1999ء میں پیش کیا جائے اور 2014ء میں ہم یہ کہیں کہ اس کے لئے مزید کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران دُنیا آگے نکل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ ہم کام وقت سے پہلے کیسے مکمل کرلیتے ہیں۔ اگر دُنیا 2020ء میں کوئی مصنوعات پیش کرنا چاہتی ہے تو کیا ہم میدان میں ان مصنوعات کے ساتھ 2018ء میں ہی آسکتے ہیں، مودی نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ وقت کے تقاضہ کی تکمیل کرے گا یا نہیں۔ حالات کی ضرورت کی تکمیل کرے گا یا نہیں یا پھر ہمارا ایجنڈہ دُنیا کے سامنے اس وقت پیش کیا جائے گا، جبکہ دُنیا یہی ایجنڈہ ہم سے پہلے پیش کرچکی ہوگی۔ حالانکہ ہم نے راست اقدام کیا ہے۔ ڈی آر ڈی او کے کئی پراجیکٹس جیسے ہلکا لڑاکا طیارہ ’تیجا‘، ’ناگ میزائل‘، طویل مسافتی زمین سے فضاء میں وار کرنے والے میزائلس کا پراجیکٹ اور فضائی قبل از وقت انتباہ دینے اور کنٹرول کرنے کے نظام کے پراجیکٹس میں کئی سال کی تاخیر ہوچکی ہے، ان کے لئے جو تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اس کی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے، ان کی حکومت اور ڈی آر ڈی او کا تقابل کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام کا کہنا ہے کہ ہم اُمید رکھتے ہیں اور آپ کی حکومت سے ہمیں توقعات ہیں کہ عوام کو اُن لوگوں سے اُمیدیں ہیں جو دوسروں لوگوں کی اُمیدوں کی تکمیل کیلئے بے مثال کام کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے کوئی اُمید نہیں ہے کہ جو کچھ بھی کام نہیں کرتے۔ وزیراعظم نے ڈی آر ڈی او سے توقع وابستہ کی کہ وہ اس کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت سے بخوبی واقف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT