Saturday , December 15 2018

’’چندرا بابو بھی مودی کے ساتھ معاون معمار ہوں گے ‘‘

بی جے پی قائدین کی جانب سے نائیڈو کی بے پناہ مداح سرائی ، دونوں جماعتوں میں ناراضگی

بی جے پی قائدین کی جانب سے نائیڈو کی بے پناہ مداح سرائی ، دونوں جماعتوں میں ناراضگی

حیدرآباد 6 اپریل (پی ٹی آئی) آندھرا پردیش میں انتخابات سے قبل این ڈی اے کو زبردست تقویت پہنچاتے ہوئے تلگودیشم نے دس سالہ وقفہ کے بعد پھر ایک مرتبہ بی جے پی کی زیر قیادت اتحاد میں شامل ہوگئی لیکن اس غیر معمولی سیاسی پیشرفت سے بی جے پی اور تلگودیشم دونوں ہی جماعتوں کو اپنے قائدین اور کارکنوں کو زبردست ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بی جے پی جو عام انتخابات سے قبل ملک بھر میں کئی علاقائی جماعتوں کو اپنے اتحاد میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے آندھرا پردیش میںتلگودیشم سے اتحاد کے ساتھ ریاست میں اہم کامیابیوں کی توقع کررہی ہے۔ تلگودیشم پارٹی نے 2004 میں آندھرا پردیش میں اقتدار سے محرومی کے بعد مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کی تائید کی تھی۔ مجوزہ انتخابات سے قبل مفاہمت کیلئے یہ دونوں جماعتیں 15 دن سے سرگرم مشاورت میں مصروف تھے اور دونوں ہی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کو زیادہ نشستیں نہ دینے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرا بابو نائیڈو ، بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاودیکر اور اکالی دل کے رکن پارلیمنٹ نریش گجرال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس مفاہمت کی توثیق کی اور ایک دوسرے کی تعریف کے پُل باندھتے رہے ۔ نریش گجرال نے کہا کہ ’’یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ نائیڈو کی پارٹی تلگودیشم اب این ڈی اے کا ایک حصہ ہوگی‘‘۔ گجرال نے نائیڈو کو بے پناہ تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کو جب کبھی کسی بحران کا سامنا ہوتا ہے چندرا بابونائیڈو ملک کو بچانے کیلئے آگے آتے ہیں‘‘۔ اکالی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ہندوستان کو رشوت اور کانگریس سے آزاد بنانے کی کوششوں میں چندرا بابو نائیڈو ، نریندر مودی کے ساتھ معاون مہمان ہوں گے۔ تلگودیشم کے ساتھ مفاہمت کیلئے مذاکرات میں مصروف قومی بی جے پی لیڈر پرکاش جاودیکر نے مفاہمت کے اعلان کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف تلنگانہ نئی ریاست آندھرا پردیش بلکہ سارے ملک میں ایک نیا جوش و خروش پیدا کیا ہے

۔چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی ۔ٹی ڈی پی مفاہمت کو خوش قسمتی سے تعبیر کیا اور امید ظاہر کی کہ لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو 300 نشستیں حاصل ہوںگی اور کانگریس کو اقتدار سے بیدخل ہونا پڑے گا۔اس سوال پر کہ آیا امیت شاہ جیسے بی جے پی قائدین فرقہ وارانہ تبصرے کررہے ہیں توآپ این ڈی اے میں تلگودیشم کی شمولیت کو کس طرح حق بجانب قرار دے سکتے ہیں نائیڈو نے جواب دیا کہ ’’ ہماری ایک سیکولر پارٹی ہے ہم اس پر قائم ہیں ہم نے این ڈی اے کی تائید کی ہے اور اس وقت بھی بالکل واضح رہے حتی کہ مودی کیوں نہ ہو سارا ملک ترقی کیلئے ان کی تائید کررہا ہے۔ طبقات اور علاقوں کا لحاظ کئے بغیر ملک کے عوام ترقی کیلئے اُن کی تائید کررہے ہیں‘‘۔ نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں جماعتوں میں اندرونی ناراضگی کے بارے میں سوال پر نائیڈو اور جاودیکر نے جواب دیا کہ قومی مفاد کے تحت اتحاد کو قطعیت دی گئی ہے اور ٹکٹ کے خواہشمند قائدین نیک نیتی کے ساتھ تعاون کریں گے۔مفاہمت اور نشستوں کی تقسیم کے خلاف بی جے پی کے دفتر اور چندرا بابو نائیڈو کی رہائش گاہ پر بالترتیب بی جے پی اور تلگودیشم قائدین نے احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں چند بی جے پی کارکنوں نے اس ہوٹل پر بھی احتجاج کیاجہاں پرکاش جاودیکر قیام کررہے ہیں۔ بی جے پی تلنگانہ یونٹ کے صدر جی کشن ریڈی بھی سمجھا جاتا ہے کہ تلگودیشم کے مفاہمت پر خوش نہیں ہیں تاہم انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ وہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT