Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ’’کے سی آر خبردار‘ اگر جھگڑا ہوگا تو بات بہت دور جائے گی‘‘

’’کے سی آر خبردار‘ اگر جھگڑا ہوگا تو بات بہت دور جائے گی‘‘

منگل گری ۔8جون ( سیاست نیوز / پی ٹی آئی) نوٹ برائے ووٹ اسکام میں رشوت کی مبینہ پیشکش کیلئے تنقیدوں کے شکار آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر ان ( نائیڈو) کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام عائد کیا اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو آندھراپردیش کی تقسیم کیلئے ’’ دھوکہ باز‘‘ قرار دی

منگل گری ۔8جون ( سیاست نیوز / پی ٹی آئی) نوٹ برائے ووٹ اسکام میں رشوت کی مبینہ پیشکش کیلئے تنقیدوں کے شکار آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر ان ( نائیڈو) کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام عائد کیا اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو آندھراپردیش کی تقسیم کیلئے ’’ دھوکہ باز‘‘ قرار دیا ۔ نوٹ برائے ووٹ تنازعہ میں اپنا نام شامل کئے جانے پر برہم چندرا بابو نائیڈو نے انتہائی سخت ترین الفاظ میں کے چندر شیکھر راؤ کو وارننگ دی کہ ایسی سازشیں زیادہ دن نہیں چلیں گی ۔ وہ بالواسطہ طور پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے ان کے ٹیلی فون ٹیاپنگ کا حوالہ دے رہے تھے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ’’ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ لوگ رشوت ستانی اور سازش کی سیاست میں ملوث ہورہے ہیں ۔ کانگریس‘ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس سازشیں کررہی ہیں ۔ میں ہمیشہ ہی عوامی خدمت اور دیانتداری کا پابند رہا ہوں ۔ جب آندھراپردیش ترقی کررہا ہے ۔ کے سی آر ( تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ) کچھ کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں اور میرے خلاف سازشیں کررہے ہیں ‘‘ ۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد منقسمآندھراپردیش میں تلگودیشم حکومت کے قیام کی پہلی سالگرہ کے موقع پر چندرا بابو نائیڈو گنٹور کے منگل گیری ٹاؤن میں آج ریاستی حکومت کے منعقدہ ’’ مہا سنکلپکم ‘‘ ( عظیم عہد) کے زیرعنوان ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے ۔ اس سے ایک دن قبل ہی چند آڈیو ٹیپس منظر عام پر آئے تھے جن میں چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ اسمبلی کے ایک نامزد رکن ایلوس اسٹیفن سے مبینہ طور پر بات چیت کررہے تھے ۔ اس اسکام میں تلگودیشم کے ایک رکن اسمبلی ریونت ریڈی پہلے ہی گرفتار کئے جاچکے ہیں ۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر اور تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ریاست کی تقسیم کے معاملہ میں کانگریس نے آندھراپردیش کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ’’ 2جون کو جب ریاست تقسیم کی گئی تھی ہم نے ’ نونرمانا دیکشا‘ ( تعمیر نو کا عہد) کیا تھا ۔ اُس روز (2جون کو ) سونیا گاندھی کے آبائی ملک اٹلی کا یوم آزادی بھی تھا ۔ اس روز ہمارے پیٹ پر مارا گیا‘ سونیا گاندھی ایسی لیڈر ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو نے یاد دلایا کہ حیدرآباد 10سال کیلئے آندھراپردیش اور تلنگانہ دونوں ہی کا مشترکہ دارالحکومت ہے اور انہیں ( نائیڈو کو) بھی حکومت تلنگانہ کی طرح اس پر مساویانہ حقوق و اختیارات حاصل ہیں ۔ چندرا بابو نے پُرزور لہجہ میں کے سی آر سے کہا کہ ’’ خبردار! آپ کو یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا ‘‘ انہوں نے کہا ہ اس شہر ( حیدرآباد) کا امن و قانون گورنر کے ہاتھ میں ہے جو دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ فون ٹیاپنگ ‘ تور جوڑ ‘جعل سازی پر مبنی دستاویزات اور اسٹنگ آپریشنس ‘‘ کے ذریعہ دی جانے والی دھمکیوں کے آگے وہ ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکیں گے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ’’ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا چاہیئے ۔ محض اس لئے کہ آپ کی حکومت برسراقتدار ہے ۔ آپ اسٹینگ آپریشنس کررہے ہیں ‘ فرضی و من گھڑت دستاویزات تیار کررہے ہیں اور ٹیلی فون ٹیاپنگ کی جارہی ہے جو ’’ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ٹیلی فون ٹیاپنگ کے سبب کئی حکومتوں کو معزول ہونا پڑا ہے ‘‘ ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ وہ کوئی تنہا فرد نہیں ہیں بلکہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر ہیں اور سوال کیا کہ ’’ کے سی آر کو میرا ٹیلی فون ٹیاپ کرنے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا میں تلنگانہ میں کے سی آر کا ملازم ہوں ؟ ‘‘ ۔چندرا بابو نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس ان کی پارٹی تلگودیشم کے قائدین کے انحراف کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ میرے ایک رکن اسمبلی کو انتخابات سے قبل آپ ( کے سی آر) اپنے فارم ہاؤز کو کب اور کیوں لے گئے تھے ‘ انہیں( رکن اسمبلی کو ) رقم دی گئی اور پولیس کی حفاظت میں بھیجا گیا ‘ کیا یہ سب کچھ آپ( کے سی آر) کو یاد نہیں ہے ۔ جب میرے ایک ایم ایل اے سرینواس یادو کو وزیر بنایا گیا اور گورنر کے ذریعہ انہیں عہدے او ررازداری کا دستور کے خلاف حلف دلایا گیا اُس وقت کیا آپ کو مخالف انحراف قانون یاد نہیں تھا ؟‘‘ ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر پر شدید ترین تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ وہ ( کے سی آر) صحافت کی آزادی کو کچل رہے ہیں اور حیدرآباد میں آندھرائی عوام کے گھروں کو منہدم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کی دفعہ 8کے تحت حیدرآباد میں امن و قانون کے تمام تر اختیارات گورنر کو حاصل ہیں تو پھر کس طرح حکومت تلنگانہ میرے ٹیلی فون ٹیاپ کرتے ہوئے حکومت آندھراپردیش پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ وہ اس طرح ان تمام باتوں کو فراموش نہیں کریں گے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے ٹی آر ایس حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ٹی آر ایس حکومت کو میں وارننگ دیتا ہوں کہ برائے مہربانی آپ سوچے سمجھے اور دو ریاستوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہ ہو ۔ اگر دو ریاستوں کے درمیان جھگڑے ہوتے ہیں تو وہ بہت دور تک جائیں گے ۔ اگر میں اپنی آنکھیں کھولوں گا تو آپ کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہ ( تلنگانہ حکومت) غلط دستاویزات بناتے ہیں کہ میں نے ٹیلی فون کیا ہے اور ایک ٹیلی ویژن چینل یہ مکالمات بھی دکھاتا ہے ۔ اس چینل پر یہ سب دکھانے کیلئے آپ سے کس نے کہا ہے ‘ کیا یہ آپ کی جاگیر ہے ‘‘ ۔ نائیڈو نے کہا کہ آندھراپردیش کے عوام سازشیں برداشت نہیںکریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT